حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 331 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 331

حیات بقاپوری 331 بھی میرے سامنے جھکا دیا۔اب تم اعتراض کر نیوالے کون ہو۔اگر اعتراض ہے تو جاؤ خدا پر اعتراض کرد۔مگر اس گستاخی اور بے ادبی کے وبال سے بھی آگاہ رہو۔اس اخبار کو جس نے ایسا غلط واقعہ لکھا ہے۔اب بھی تلافی کرنی چاہئے۔( یہ فقرہ ایک عیسائی کا تھا اور اس کی تردید بذریعہ ضمیمہ و نیز اخبار کے اندر کر دی گئی ہے۔ایڈیٹر ) اور ایسے طور پر کہ ہمارے پیارے محمود اور اس کے بھائیوں سے پوچھ کر تلافی کرے۔میں کسی کا خوشامدی نہیں۔مجھے کسی کے سلام کی بھی ضرورت نہیں اور نہ تمہاری نذر اور پرورش کا محتاج ہوں۔اور خدا تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں کہ ایسا و ہم بھی میرے دل میں گذرے۔اللہ تعالیٰ نے مجھے مخفی د مخفی خزانہ دیا ہے۔کوئی انسان اور بندہ اس سے واقف نہیں ہے۔میری بیوی میرے بچے تم میں سے کسی کے محتاج نہیں۔اللہ تعالیٰ آپ اُن کا کفیل ہے۔تم کسی کی کیا کفالت کرو گے والــلــه الـغـنـي وانتـم الفقرائج وسُنتا ہے وہ سن لے اور خوب سن لے اور جس نے نہیں سنا اُس کو سننے والے پہنچا دیں کہ یہ اعتراض کرنا کہ خلافت حقدار کو نہیں پہنچی رافضیوں کا عقیدہ ہے۔اس سے توبہ کر لو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے جس کو حقدار سمجھا خلیفہ بنا دیا جو اُس کی مخالفت کرتا ہے وہ جھوٹا اور فاسق ہے۔فرشتے بن کر اطاعت و فرمانبرداری اختیار کرو۔ابلیس نہ بنو۔(خلیفہ کے مخالف اس فتویٰ کو نوٹ کرلیں)۔خلافت کے خلاف بحث رافضیوں کا کام ہے:۔یہ رفض کا شبہ ہے جو خلافت کی بحث تم چھیڑتے ہو۔یہ تو خدا سے شکوہ کرنا چاہئے کہ بھیرہ کا رہنے والا خلیفہ ہو گیا۔کوئی کہتا ہے کہ خلیفہ کرتا ہی کیا ہے؟ لڑکوں کو پڑھاتا ہے۔کوئی کہتا ہے کہ کتابوں کا عشق ہے۔اسی میں مبتلا رہتا ہے۔ہزار نالا لکھیاں مجھ پر تھو پو۔مجھ پر نہیں یہ خدا پر لگیں گی۔جس نے مجھے خلیفہ بنایا۔یہ لوگ ایسے ہی ہیں جیسے رافضی ہیں جو ابو بکر عمر رضی اللہ عنہما پر اعتراض کرتے ہیں۔غرض کفر و ایمان کے اصول تم کو بتا دئے گئے ہیں۔حضرت صاحب خدا کے مرسل ہیں۔اگر وہ نبی کا لفظ اپنی نسبت نہ بولتے تو بخاری کی حدیث کو نعوذ باللہ غلط قرار دیتے۔جس میں آنیوالے کا نام نبی اللہ رکھا ہے۔پس وہ نبی کا لفظ بولنے پر مجبور ہیں۔اب اُن کے مانے اور انکار کا مسئلہ صاف ہے۔عربی بولی میں کفر انکار ہی کو کہتے ہیں۔ایک شخص اسلام کو مانتا ہے۔اسی حصہ میں اس کو اپنا قریبی سمجھ لو۔جس طرح پر یہود کے مقابلہ میں عیسائیوں کو قریبی سمجھتے ہو۔اسی طرح پر یہ مرزا صاحب کا انکار کر کے ہمارے قریبی ہو سکتے ہیں۔اور پھر مرزا صاحب کے بعد میرا انکار ایسا ہی ہے جیسے