حیاتِ بقاپوری — Page 325
حیات بقاپوری سید نا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء کے موقعہ پر فرمایا۔325 حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی۔مولوی غلام رسول صاحب را جیکی۔مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری۔انہوں نے ایسے وقتوں میں کام کیا ہے۔جبکہ اُن کی کوئی مدد نہ کی جاتی تھی اور اس کام کی وجہ سے اُن کی کوئی آمد نہ تھی۔اس طرح انہوں نے قربانی کا عملی ثبوت پیش کر کے بتا دیا کہ وہ دین کی خدمت بغیر کسی معاوضہ کے کر سکتے ہیں۔ایسے لوگوں کو اگر اُن کی آخری عمر میں گزارے دئے جائیں تو اس سے اُن کی خدمات حقیر نہیں ہو جاتیں۔بلکہ گزارے کو اُن کے مقابلے میں حقیر سمجھا جاتا ہے۔کیونکہ جس قدر اُن کی امداد کرنی چاہئے اتنی ہم نہیں کر رہے۔“ (رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ وصه ۲۴) ۱۳ ممبران صدر انجمن احمد یہ اور خلیفہ کے تعلقات پر یہ جو واقعات لکھے ہیں وہ چشمد ید واقعات کی حیثیت رکھتے ہیں۔اس لئے یہ مختصر ہے۔جس شخص نے تفصیل دیکھنی ہو مندرجہ ذیل اخبارات ملاحظہ فرمائیں: الحکم ۲۱۔مارچ و ۷ مئی ۱۹۱۲ء ۷- اگست ۱۹۱۵ ء - بدر ۴ ۱۱ جولائی ۱۹۱۴ء۔اور الفضل مارچ، اپریل ۱۹۱۳ء وے انجمن اور خلیفہ کے تعلقات اب میں انجمن اور خلیفہ کے تعلقات کی بابت میں مختصر عرض کرتا ہوں: (1) انجمن جس طرح مامور اور نبی کی مطیع ہوتی ہے اور ہر امر میں اس کی اطاعت بانشراح صدر اُسے لازمی ہے اسی طرح اس کی وفات کے بعد خلافت قائم ہونے پر خلیفہ کی اطاعت بھی لازم اور فرض ہے۔کیونکہ اطاعت نسبت کی طرف منسوب ہوتی ہے۔یعنی اصل اور ذاتی مطاع خدا تعالیٰ ہے۔اور اطاعت اس کے حکم کی ہے۔وہ حکم خواہ نبی کی زبان پر جاری ہو یا اس کے خلیفتہ کی زبان پر اس میں انکار کی گنجائش نہیں۔البتہ کسی فقہی مسئلہ میں