حیاتِ بقاپوری — Page 322
حیات بقاپوری 322 نہ آئی۔مگر ہم حسن ظنی سے کام لیتے ہیں۔تب بھی مطلب متعدد بیعت لینے والے نہیں سمجھے جاتے۔جیسا کہ نبی کریم صلعم نے سائل کے سوال پر کہ جب برس دن کا ایک روز ہوگا۔تو ایک دن رات کی نماز کافی ہوگی۔آپ مسلم نے اُس کی سمجھ کے موافق جواب دے دیا تھا۔کہ نہ۔بلکہ اندازہ سے برس کی نمازیں ادا کرنا۔اس سے بظاہر تو برس کا دن ثابت ہوتا ہے۔مگر نہ وہاں برس کا دن وقوع میں آیا اور نہ یہاں متعدد خلیفے ہونے تھے۔یہ آپ لوگوں کی سمجھ پر جواب دیا گیا تھا۔(۸) آٹھواں شبہ یہ الفاظ پڑھنے سے کرتے ہیں۔”خدا کے مقرر کردہ خلیفہ کی انجمن " مگران لفظوں کو خلافت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔کیونکہ انجمن کی علت غائی جو حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے بیان فرمائی ہے۔وہ یہ ہے: اس صورت میں ایک انجمن چاہئے کہ ایسی آمدنی کا روپیہ ( یعنی صرف وصایا کارو پینه که نگر خانه مدرسه وغیرہ کا جو وقتا فوقتا جمع ہوتا رہے گا۔اعلائے کلمہ اسلام اور اشاعت توحید میں جس طرح مناسب سمجھیں خرچ کریں (الوصیت) مگر ہم تعجب سے عرض کرتے ہیں کہ خلیفہ کے متعلق بھی کثرت رائے بیعت والوں کی طرف ہی ہے۔مگر یہ لوگ کثرت رائے کو بھی نہیں مانتے۔(9) نواں شبہ اُن کو یہ لگا ہوا ہے کہ کچھ مسائل جن میں مسئلہ کفر و اسلام اور غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنا ہے۔وہ مولوی محمد علی صاحب کو حضرت خلیفہ اول نے عام اشاعت کے برخلاف بیان کئے ہوئے ہیں۔اور اس طرح مولوی صاحب معذور سمجھے جاتے ہیں۔مگر یادر ہے کہ فتویٰ میں اشاعت شدہ امور کام آتے ہیں۔دوسرے مخصوص شخص ہوتے ہیں۔مثلاً ایک شخص رمضان میں دن کو عورت سے جماع کر کے نبی کریم صلعم کے بیت المال سے کھجور میں گھر لے آیا تھا۔تو کیا وہ بھی لوگوں کو اس بات پر مجبور کرتا پھرتا کہ رمضان میں دن کو عورت سے جماع کر کے بیت المال سے کھجور میں لانا مسنون امر اور یہی کفارہ ہے۔نہیں۔بلکہ یہ بات اسکے ساتھ مخصوص تھی۔(۱۰) دسواں شبہ یہ بیان کیا جاتا ہے۔کہ اہل بیت سے محبت کرنے والے شیعہ تھے۔ہم کہتے ہیں۔خلافت عمر کے منکر کون تھے ؟ حضرت علی کو خلافت سے معزول کر نیوالے کون تھے؟ ان دونوں پہلوؤں سے بیعت کر نیوالے ہرگز رافضی شیعہ یا خارجی نہیں بن سکتے۔فندیر و!