حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 305 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 305

حیات بقاپوری 305 بٹالہ۔مرتب) اسٹیشن پر تقسیم ہوتے ہوئے ملا تھا۔جب ہم نے وہ ٹریکٹ دیکھا تو وہ مولوی محمد علی صاحب کا تھا جو حضرت خلیفہ اسیج اول کے ایام بیماری ہی میں لکھ کر اور طبع کرا کر اور اس کے پیکٹ بنا کر ان پر پتے لکھ کر بعض کو ڈاک کے ذریعے بھیج دیا گیا تھا اور بعض کو دستی دیا گیا۔اور مجھے جو ٹریکٹ بذریعہ ڈاک بھجوایا ہو املا اس پر ڈاکخانہ راولپنڈی کی مہر ۱۴۔مارچ ۱۹۱۳ء کی لگی ہوئی ہے۔جو شخص اس کی تصدیق چاہے وہ آکر دیکھ سکتا ہے۔مولوی محمد علی صاحب اس ٹریکٹ کے شروع میں لکھتے ہیں:۔برادران ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔میں نے یہ چند سطریں ایسے وقت میں لکھی ہیں کہ اس وقت مجھے قطعا یہ بھی علم نہیں کہ کون شخص حضرت خلیفہ اسیح کا جانشین منتخب ہوگا (صدا) میں نے جونہی یہ ٹریکٹ پڑھوایا جو فتنہ ڈالنے والا اور فساد کا بھرا ہوا تھا مجھے بہت ہی افسوس ہوا کہ کیسی بزدلی سے کام لیا گیا ہے اس میں سے میں چند اقتباسات ہدیہ ناظریں کرتا ہوں۔ٹریکٹ ایک نہایت ضروری اعلان کے اقتباسات پس سب سے پہلی بات جو میں چاہتا ہوں آپ یاد رکھیں یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس کوئی تحریک اس مضمون کی پہنچے کہ فلاں شخص کے ہاتھ پر چالیس ۴۰ احمدیوں نے بیعت کر لی ہے یا اُس پر اتفاق کر لیا ہے کہ وہ لوگوں سے بیعت لے تو حضرت مسیح موعود کی وصیت کے ماتحت وہ بے شک اس بات کا تو مجاز ہے کہ ان لوگوں سے جو سلسلہ میں داخل نہیں سلسلہ میں داخل کرنے کے لیے مسیح موعود کے نام پر بیعت لے۔مگر اس سے زیادہ کوئی مرتبہ اس کا سلسلہ میں تسلیم نہیں ہو سکتا۔حضرت مسیح موعود کی اس زبانی شہادت کے علاوہ اس عبارت کے اپنے الفاظ بھی قابل غور ہیں جن سے اسبات کی تائید ہوتی ہے کیونکہ یہاں یہ فرمایا کہ وہ میرے نام پر بیعت لے، جس کے صاف معنے یہ ہیں کہ وہ بیعت صرف سلسلہ احمدیہ میں داخل کرنے کے لیے ہے نہ کسی اور غرض کے لیے۔پھر جماعت کے بزرگوں کو جب بیعت لینے کے لیے کہا تو یہ فرمایا کہ اس کی غرض یہ ہے کہ سب لوگوں کو دین واحد پر جمع کیا جاوے“۔اس سے بھی صاف مفہوم سلسلہ میں داخل کرنے کا نکلتا ہے۔نہ بیعت تو بہ کا۔(صہے) پس دوسری بات جو میں آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ جولوگ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہیں ان کو بار بار از سر تو کسی شخص کی بیعت کی ضرورت نہیں۔“ (صہ ۱۳ ۱۴)