حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 306 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 306

حیات بقاپوری تیسری بات جو میں ضروری طور پر آپ کو پہنچانی چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ مجلس معتمدین صدر انجمن احمدیہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ہاتھوں سے قائم کیا۔اپنی وصیت میں اُسے اپنا جانشین قرار دیا اس کے لیے دعائیں کیں اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کو قائم کرنے کے پونے دو سال بعد اور اپنی وفات سے صرف آٹھ نو ماہ پیشتر یہ تحریر اپنے ہاتھ سے لکھ کر دی کہ اس انجمن کے فیصلے آپ کے بعد بالکل قطعی ہوں گے اور سلسلہ کے لیے قابل عمل درآمد ہونگے۔اور آپ کی زندگی میں صرف بعض دینی امور کو مستثنے کیا کہ شاید کوئی ایسا امر ہو جس میں اللہ تعالے کی طرف سے اطلاع ملے ورنہ باقی امور کو انجمن کے سپرد کیا۔اس انجمن کو توڑنے کے لئے حضرت خلیفہ اسیح کے ابتدائی ایام خلافت میں بڑی بڑی کوششیں کی گئیں اور آخری کوشش بڑے زور وشور سے یہ کی گئی کہ قواعد میں اس امر کو درج کیا جائے کہ جو کوئی خلیفہ ہوا کرے اس کے تمام فیصلے انجمن کے لئے قابل تعمیل ہوں اور وہ انجمن کے ممبروں میں سے جس کو چاہے نکال دیا کرے اور جسے چاہے داخل کر لیا کرے۔جو دراصل انجمن توڑنے کے ہم معنی ہے۔میں قوم کو اس خطرناک عصر کے ارادوں اور منصوبوں سے صفائی سے اطلاع دیتا ہوں کہ اگر اس بات کو اب پھر اٹھایا جائے تو ساری قوم کا فرض ہے کہ اس کا زور سے مقابلہ کرے۔یہ سلسلہ پر وہ حملہ ہو گا جو اس کو بنیادوں تک صدمہ پہنچائے گا اور حضرت مسیح موعود کے ہاتھ سے لگائے ہوئے پودے کو جڑوں سے اکھیڑ دے گا۔“ (صہ ۱۴-۱۵) چوتھی بات جو میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ مسئلہ کفر و اسلام میں خدا سے ڈر کر منہ سے لفظ نکالو (صه ۱۵-۱۶) پانچویں بات جو میں آخر کار آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ چونکہ حضرت خلیفہ المسیح نے یہ فرما دی ہے کہ اُن کا کوئی جانشین ہو۔جو تقی۔عالم باعمل اور ہر دلعزیز ہو۔اس لئے صرف اس فرمان کی تعمیل کے لئے تم کسی شخص کو ضرورت کے وقت اس غرض کے لئے منتخب کر لو۔کہ وہ ہماری قوم میں سب پر ممتاز ہو تم اس کے حکموں کی قدر کرو۔بلا کسی سخت ضرورت کے اس سے اختلاف نہ کروں۔مگر قومی مشورہ سے اُسے طے کرو۔چالیس انصار اللہ کے فیصلے کو احمدی قوم کا فیصلہ نہیں کہا جاسکتا بلکہ انصار اللہ کا بھی نہیں کہا جا سکتا۔لیکن تم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وصیت کو بھی مدنظر رکھو۔اگر 306