حیاتِ بقاپوری — Page 302
حیات بقاپوری 302 صاحب سے عرض کی کہ میں سیالکوٹ سے سنکر آیا ہوں کہ وہاں جماعت احمدیہ میں اس بات کا بہت چرچا ہے کہ قادیان میں خلیفہ کے متعلق اختلاف ہے۔یہ منکر دوبارہ حضرت صاحبزادہ صاحب نے مولوی فضل دین صاحب کو بھیجا کہ جا کر کہیں کہ مولوی بقا پوری صاحب سیالکوٹ سے آئے ہیں اور وہ اس طرح اختلاف کے متعلق بیان کرتے ہیں۔لیکن مولوی محمد علی صاحب نے اس کو نہ مانا اور عصر کی نماز کے بعد ہر دو صاحبان نے تقریریں کیں۔جمعرات کے دن حضرت خلیفہ اول کی حالت بہت ہی نڈھال ہوگئی اور جمعہ کے دن ایک بجے کے قریب آپ اپنے حقیقی مولا سے جاملے۔انَّا لِلَّهِ وَانا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اسی تاریخ ہم مارچ کو حضرت خلیفہ اول نے عصر کے وقت وصیت فرمائی جس پر حضور کے اپنے اور معتمدین صدرانجمن کے دستخط تھے اور نواب صاحب کے پاس سر بمہر محفوظ رکھوائی گئی۔یہ وصیت دو اخباروں (الحکم اور بدر ) میں چھپ گئی تھی۔اور پھر الفضل 11 مارچ 1914 ء میں بھی اس کا اندراج ہو گیا۔جو یہاں لکھی جاتی ہے:۔بسم الله الرحمن الر۔(الفاظ وصیت) نحمده على رسوله الكريم خاکسار بقائی جو اس لکھتا ہے لا اله الا الله محمد رسول الله میرے بچے چھوٹے ہیں۔ہمارے گھر میں مال نہیں۔اُن کا اللہ حافظ ہے۔ان کی پرورش بتائی و مساکین سے نہیں۔کچھ قرضہ حسنہ جمع کیا جائے۔لائق لڑکے ادا کریں۔یا کتب جا نداد وقف علی الاولاد ہو۔میرا جانشین متقی ہو۔ہر دل عزیز۔عالم باعمل حضرت صاحب کے پرانے اور نئے احباب سے سلوک چشم پوشی، در گذر کو کام میں لا دے۔میں سب کا خیر خواہ تھا۔وہ بھی خیر خواہ رہے۔قرآن وحدیث کا درس جاری رہے۔والسلام نقل نورالدین ۴ مارچ ۱۹۱۴ء))