حیاتِ بقاپوری — Page 289
حیات بقاپوری 289 اتوار ہو گا۔اس لیے خاکسار نے ۲۴ مئی اتوار کے دن حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ میں تقریر کے لیے پھر حاضر ہو جاؤں گا مجھے اجازت دیجئے۔حضور نے فرمایا کیا بقا پور یہاں سے نزدیک ہی ہے؟ میں نے عرض کی جی ہاں۔حضور نے مجھے اجازت دی۔لیکن منگل کے دن ۲۶ مئی کو حضور کا انتقال ہو گیا۔اناللہ وانا اليه راجعون۔مجھے اپنے گاؤں بقاپور میں اس وقت پتہ چلا جب حضور کو قادیان میں سپرد خاک کر دیا گیا تھا اور حضرت مولوی نورالدین خلیفہ منتخب ہو چکے تھے۔کو خلافت اولی کے زمانے میں میں مہینہ میں ایک دو دفعہ قادیان ہو آیا کرتا تھا مگر اتنی کثرت سے نہیں جتنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں۔جب قادیان میں آتا تو خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کی پارٹی کی باتیں اکثر صاحبزادہ صاحب کے خلاف ہی ہوتی تھیں۔یہاں تک کہ انجمن نے جلسہ سالانہ ۱۹۹۸ء کا پروگرام طبع کرایا جس میں سب مقررین کے لیے ایک ایک گھنٹہ تقریر کے لیے مقرر کیا اور حضرت خلیفہ اسی اول کے لیے دو گھنٹے مقرر کئے۔لیکن ظہر وعصر کے بعد جب حضرت خلیفہ امسیح اول نے تقریر شروع کی تو بجائے دو گھنٹے کے شام تک تقریر کرتے رہے اور وقت مقرہ سے تجاوز فرما کر سورج غروب ہونے سے دس پندرہ منٹ پہلے ختم کی اور فرمایا چونکہ فلاں شخص نے مجھے کہا ہے کہ میں نے بھی چند منٹ کے لیے کچھ عرض کرتا ہے اس لیے یہ دس پندرہ منٹ میں ان کے لیے چھوڑتا ہوں۔اس پر مولوی سید محمد احسن صاحب کھڑے ہوئے اور کہا کہ یہ خلیفہ کی ہتک ہے کہ ان کا وقت مقرر کیا گیا اور عام لوگوں کی طرح ان کے لیے وقت کی تعین کی گئی ہے۔اس پر خواجہ صاحب نے ذرا کھسیانے ہو کر کہا کہ حکیم الامتہ صاحب کے مشورہ سے پروگرام بنایا گیا تھا مگر بات ظاہر ہوگئی اور لوگوں میں چرچا ہونے لگا کہ یہ لوگ خلیفہ کی اس طرح اطاعت نہیں کرتے جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کرتے تھے۔جلسہ خیر و خوبی سے ختم ہوا اور لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔مگر یہاں قادیان میں یہ چرچا ہونے لگا کہ انجمن خلیفہ کی مطاع ہے یا خلیفہ انجمن کا مطاع ہے۔حضرت میر محمد الحق صاحب نے اس طرح کے تین سوال لکھے کہ انجمن اور خلیفہ دونوں میں کون مطیع ہے اور کون مطاع ؟ اور حضرت خلیفتہ المسیح اول کی خدمت میں پیش کر دیئے۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ علماء سلسلہ سے اس کے متعلق فتویٰ لیا جائے۔