حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 28 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 28

حیات بقاپوری 28 اُسوہ سے اس راہ کا پتہ دیتے ہیں جو تزکیہ نفس کی حقیقی راہ ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت دلوں میں پیدا ہو اور شرح صدر حاصل ہو۔میں بھی اسی منہاج نبوت پر آیا ہوں۔پس اگر کوئی سمجھتا ہے کہ میں کسی ٹوٹکے سے قلب جاری کر سکتا ہوں تو وہ غلطی پر ہے۔میں تو اپنی جماعت کو اسی راہ پر لے جانا چاہتا ہوں جو ہمیشہ سے انبیاء علیہم السلام کی راہ ہے جو خدا تعالیٰ کی مرضی کے ماتحت تیار ہوئی ہے۔پس اور راہوں کا ذکر آپ ہماری کتابوں میں نہ پائیں گے۔اور نہ ہم اس کی تعلیم دیتے ہیں اور نہ اس کی ضرورت سمجھتے ہیں۔ہم تو یہی بتاتے ہیں کہ نمازیں سنوار سنوار کر پڑھو اور دعا میں لگے رہو۔Sty خاکسار: حضور نمازیں ہم پڑھتے ہیں مگر منہیات سے باز نہیں رہتے اور اطمینان قلب حاصل نہیں حضرت اقدس : نمازوں کے نتائج اور اثرات تو تب پیدا ہوں جب نمازوں کو سمجھ کر پڑھو۔کلام الہی اور ادعیہ ماثورہ کے علاوہ اپنی زبان میں بھی دعائیں کرو اور ساتھ یہ بھی یادرکھو۔یہی ایک امر ہے جس کی میں بار بار تاکید کرتا ہوں کہ چھکو اور گھبراؤ نہیں۔استقلال اور صبر سے اسی راہ کو اختیار کرو گے تو انشاء اللہ تعالیٰ یقینا ایک نہ ایک دن کامیاب ہو جاؤ گے۔ہاں یہ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کو ہی مقدم رکھو۔اور دین کو دنیا پر ترجیح دو۔جب تک انسان اپنے اندر دنیا کا کوئی حصہ بھی پاتا ہے وہ یاد رکھے کہ ابھی وہ اس قابل نہیں کہ دین کا نام بھی لے۔یہ بھی ایک غلطی لوگوں کو لگی ہوئی ہے کہ دنیا کے بغیر دین حاصل نہیں ہوتا۔انبیاء علیہم السلام جب دنیا میں آئے ہیں کیا انہوں نے دنیا کے لیے سعی اور مجاہدہ کیا یا دین کے لیے اور باوجود اس کے کہ ان کی ساری توجہ اور کوشش دین کے لیے ہی ہوتی ہے پھر کیا وہ دنیا میں نامراد ر ہے ہیں؟ ہر گز نہیں بلکہ دنیا خود ان کے قدموں میں آکر گری ہے۔یہ یقیناً سمجھو کہ انہوں نے دنیا کو گویا طلاق دے دی تھی۔لیکن یہ عام قانون قدرت ہے کہ جو لوگ خدا کی طرف سے آتے ہیں وہ دنیا کو ترک کرتے ہیں۔اس سے یہ مراد ہے کہ وہ دنیا کو اپنا مقصود اور غایت نہیں ٹھہراتے اور دنیا اُن کی غلام اور خادم ہو جاتی ہے۔جولوگ بخلاف اس کے دنیا کو اپنا اصل مقصود قرار دیتے ہیں خواہ وہ دنیا کو کس قدر بھی حاصل کر لیں مگر آخر کار ذلیل ہوتے ہیں۔سچی خوشی اور اطمینان اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے حاصل ہوتا ہے۔یہ مجرد دنیا کے حصول پر منحصر نہیں اس لیے ضروری ہے کہ ان اشیاء کو اپنا معبود نہ ٹھہراؤ۔اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اُسی کو یگانہ و یکتا معبود سمجھو۔جب تک انسان ایمان نہیں لاتا کچھ نہیں۔اور ایسا ہی نماز روزہ میں اگر دنیا کا کوئی حصہ شامل ہے تو وہ نماز روزہ اُسے منزل مقصود تک