حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 27 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 27

حیات بقا پوری کے لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان تزکیہ نفس کرے جیسا کہ فرمایا گیا ہے غذا فلح من ز تھا (۱:۹۱)۔خاکسار: دعا جب تک دل سے نہ اُٹھے کیا فائدہ ہو گا ؟ 27 حضرت اقدس:۔میں اسی لیے تو کہتا ہوں کہ صبر کرنا چاہیے اور کبھی اس سے گھبرانا نہیں چاہیے خواہ دل چاہے یا نہ چاہے۔کشاں کشاں مسجد میں چلے آؤ کسی نے ایک بزرگ سے پوچھا کہ میں نماز پڑھتا ہوں مگر وسادس رہتے ہیں۔اس نے کہا تم نے ایک حصہ پر تو قبضہ کر لیا ہے دوسرا بھی حاصل ہو جائے گا۔نماز پڑھنا بھی تو ایک فضل خداوندی ہے دوسرا بھی انشاء اللہ تعالیٰ حل ہو جائے گا۔اصل بات ہے کہ ایک فعل انسان کا ہوتا ہے دوسرا اللہ تعالیٰ کا فعل ہے سعی کرنا مجاہدہ کرنا یہ تو انسان کا اپنا فعل ہے۔اس پر پاک کرنا استقامت بخشا اللہ تعالیٰ کا فعل ہے۔لہذا جو شخص جلدی کرے گا وہ اس طریق پر جلد کامیاب ہو جائے گا؟ یہ جلد بازی انسان کو خراب کرتی ہے۔جب وہ دیکھتا ہے کہ دینا کے کاموں میں بھی اتنی جلدی کوئی امر نتیجہ خیز نہیں ہوتا۔آخر اس پر کوئی وقت اور میعاد گذرتی ہے۔زمیندار بیج بو کر ایک عرصہ تک صبر کے ساتھ انتظار کرتا ہے۔بچہ بھی نو مہینہ کے بعد پیدا ہوتا ہے۔اگر کوئی چاہے کہ پہلی ہی خلوت کے بعد بچہ پیدا ہو جائے تو لوگ اُسے بے وقوف کہیں گے یا نہیں۔پھر جب دنیوی امور میں قانونِ قدرت کو اسطرح دیکھتے ہوتو یہ کیسی غلطی اور نادانی ہے کہ دینی امور میں انسان بلا محنت اور مشقت کے کامیاب ہو جائے۔جس قدر اولیاء، ابدال، انبیاء ورسل ہوئے ہیں انہوں نے کبھی گھبراہٹ ، بزدلی اور بے صبری ظاہر نہیں کی۔وہ جس طرح چلے ہیں اُسی طریق کو اختیار کرو، اگر کچھ حاصل کرنا ہے۔بغیر اس راہ کے تو کچھ نہیں مل سکتا۔میں یقینا کہتا ہوں اور اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ انبیاء علیہم السلام کو اطمینان اس وقت نصیب ہوا ہے جب انہوں نے اُدعونی است لکم پر عمل کیا۔مجاہدات عجیب اکسیر ہیں۔سید عبدالقادر جیلانی نے کیسے کیسے مجاہدات کئے۔ہندوستان میں جوا کا برگذرے ہیں جیسے حضرت معین الدین چشتی مجدد الف ثانی سرہندی حضرت شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی ان کے حالات پڑھو تو معلوم ہو کہ کیسے کیسے مجاہدات ان کو کرنے پڑے ہیں۔جو لوگ کہتے ہیں کہ فلاں فقیر کے پاس گئے تو اس نے توجہ کی اور قلب جاری ہو گیا یہ کچھ بات نہیں۔ایسے تو ہندو فقیروں کے پاس بھی جاری ہو جاتے ہیں۔توجہ کچھ چیز نہیں ہے یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے ساتھ تزکیہ نفس کی کوئی شرط نہیں ہے نہ اس میں کفر و اسلام کا کوئی سوال ہے۔انگریزوں نے اس فن میں وہ کمال حاصل کیا ہے کہ دوسرا کوئی کیا کرے گا۔میرے نزدیک یہ بدعات اور محدثات ہیں۔شریعت کی اصل غرض تزکیہ نفس ہوتی ہے اور انبیاء علیہم السلام اسی مقصد کو لے کر آتے ہیں اور وہ اپنے نمونہ اور