حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 270 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 270

حیات بقاپوری 270 رکھے۔اگر زہر یلے ذرات و مواد انسان کے اندر خود بخود اثر پذیر ہوتے۔تو پھر ان ذرات کے آگے ہاتھ جوڑنے پڑتے۔کہ اثر نہ کریں۔مگر ایسا نہیں ہے۔بلکہ کوئی چیز وذرہ خدا تعالیٰ کے حکم واذن کے سوا اثر نہیں کر سکتا۔“ (الحکم ۱۰۔مارچ حواء) ۱۱۴۔رسول عالم الغیب نہیں ہوتا:۔رسول عالم الغیب ہوتا ہے یا نہیں۔اس پر فرمایا کہ: اگر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوعلم غیب ہوتا تو آپ زینب کا نکاح زید سے نہ کرتے۔کیونکہ بعد کو جدائی نہ ہوتی۔اور اسی طرح ابو لہب سے بھی رشتہ نہ کرتے“۔61901 الحکم 10 جولائی ۱۱۵۔فتا کی دو قسمیں:۔فتا کی دو قسمیں ہیں۔ایک فتا حقیقی ہوتی ہے۔جیسے وجودی مانتے ہیں کہ سب خدا ہی ہیں۔یہ تو بالکل باطل اور غلط ہے۔اور یہ شرک ہے۔لیکن دوسری قسم فتاء کی فناء نظری ہے۔اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ایسا شدید اور گہرا تعلق ہو۔کہ اس کے بغیر ہم کچھ چیز ہی نہیں ہیں۔اللہ تعالی کی ہستی ہی ہستی ہو باقی سب بیچ اور فانی ہو۔یہ فناء اتم کا درجہ توحید کے اعلیٰ مراتب پر حاصل ہوتا ہے۔اور توحید کامل ہی اس درجہ پر ہوتی ہے۔جو انسان اس درجہ پر پہنچتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں کچھ ایسا کھویا جاتا ہے کہ اس کا اپنا وجود نیست و نابود ہو جاتا ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کے عشق اور محبت میں ایک نئی زندگی حاصل کرتا ہے۔جیسے ایک لوہے کا ٹکڑا آگ میں ڈالا جاوے۔اور وہ اس قدر گرم کیا جاوے کہ سُرخ آگ کے انگارے کی طرح ہو جاوے اس وقت وہ لوہا آگ ہی کی ہم شکل ہو جاتا ہے۔اس طرح پر جب ایک راست باز بندہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور وفاداری کے اعلیٰ درجہ پر پہنچ کرفتاء فی اللہ ہو جاتا ہے اور کمال درجہ کی نیستی ظہور پاتی ہے۔اس وقت وہ ایک نمونہ خدا کا ہوتا ہے۔اور حقیقی طور پر وہ اس وقت کہلاتا ہے انت منی۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جو دعا سے ملتا ہے۔(الحکم ۳۰ ستمبر ۱۹۰۳ء)