حیاتِ بقاپوری — Page 263
حیات بقاپوری 263 یہ مراد ہے کہ جو ان مندروں اور تھانوں پر ذبح کیا جاوے یا غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا جاوے تو اس کا کھانا جائز نہیں ہے۔لیکن جو جانور بیچ وشراء میں آجاتے ہیں۔ان کی حلت ہی کبھی جاتی ہے۔زیادہ تفتیش کی کیا ضرورت ہے۔دیکھو حلوائی وغیرہ بعض اوقات ایسی حرکات کرتے ہیں کہ ان کا ذکر بھی کراہت اور نفرت پیدا کرتا ہے۔لیکن ان کی بنی ہوئی چیزیں اکثر کھاتے ہی ہیں۔آپ نے دیکھا ہوگا۔کہ شیر بینیاں تیار کرتے ہیں اور میلی کچیلی دھوتی میں بھی ہاتھ مارتے جاتے ہیں۔اور جب کھانڈ تیار کرتے ہیں۔تو اس کو پاؤں سے تیار کرتے ہیں۔چوڑھے چمار گڑ وغیرہ میں بعض اوقات جو ٹھے رس وغیرہ ڈال دیتے ہیں۔اور خدا جانے کیا کیا کرتے ہیں۔ان سب کو استعمال کیا جاتا ہے۔اس طرح پر اگر تشہد ہو تو سب حرام ہو جائیں۔اسلام نے مالا يطاق تکلیف نہیں رکھی ہے۔بلکہ شریعت کی بناء نرمی پر ہے۔۱۰۲ گرمیوں میں پہاڑوں پر جانا:۔(الحکم ۱۰ اگست ۱۹۰۳ء) ایک مخلص نے پہاڑ پر جانے کی اجازت چاہی۔اس کے متعلق تذکرہ آنے پر فرمایا۔اللہ تعالیٰ کے وعدے بالکل بچے ہیں۔جب کہ یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ کوئی عذاب شدید آنے والا ہے۔تو اس کا کوئی وقت تو ہمیں معلوم نہیں ہے۔اس لئے بڑی احتیاط کرنی چاہئیے۔پہاڑوں پر کیا ہے۔ہم تو گرمیاں یہاں ہی بسر کرتے ہیں۔کوئی ایسی تکلیف تو نہیں ہوتی۔بلکہ میں ایک مرتبہ ڈلہوزی گیا کسی مقدمہ کی تقریب تھی۔جب میں وہاں پہنچا تو خلاف عادت دیکھا نہ گرمی ہے نہ پسینہ آتا ہے۔بارش ہوتی ہے۔اور بادل گھروں میں اندر گھس آئے۔ہر وقت اندر بیٹھے رہنا۔نہ چلنے پھرنے کے لئے موقعہ ملے۔اگر ہر روز چائے نہ پہیں تو اسہال آجائیں۔ایک دو دن میں نے گزارے پھر سخت تکلیف محسوس ہونے لگی۔اور میں جب تک پٹھان کوٹ نہ پہنچ گیا۔طبیعت میں نشاط اور انشراح پیدا نہ ہوا۔ان کو لکھ دو کہ وہ یہاں آجائیں۔اگر بارش ہوتی رہی تو یہاں بھی موسم اچھا ہے۔اور ۵ استمبر تک تو امید ہے موسم میں بڑی تبدیلی ہو جائے گی۔فرمایا: ” میں دیکھتا ہوں کہ گرمیوں کو بھی روحانی ترقی کے ساتھ خاص مناسبت ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو۔کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے مکہ جیسے شہر میں پیدا کیا۔اور پھر آپ تو ان گرمیوں میں تنہا غار حرا میں جا کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتے تھے۔وہ کیسا عجیب زمانہ ہوگا۔آپ ہی پانی کا ایک مشکیزہ اٹھا کر لے جایا کرتے ہوں گے اصل بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ انس اور ذوق پیدا ہو جاتا ہے تو پھر دنیا اور اہل دنیا سے ایک نفرت اور