حیاتِ بقاپوری — Page 26
حیات بقاپوری فقرہ ہے: منگے سومر ر ہے۔مرے سومنگن جائے 26 حقیقت میں جب تک انسان دعاؤں میں اپنے آپ کو اس حالت تک نہیں پہنچا لیتا کہ گویا اس پر موت وارد ہو جائے اس وقت تک باب رحمت نہیں کھلتا۔خدا تعالیٰ کی راہ میں زندگی ایک موت کو چاہتی ہے۔جب تک انسان اس تنگ دروازے سے داخل نہ ہو کچھ نہیں ہو سکتا۔خدا جوئی کی راہ میں لفظ پرستی سے کچھ نہیں بنتا۔بلکہ یہاں حقیقت سے کام لینا چاہیے۔جب طلب صادق ہو گی تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اُسے محروم نہیں رکھے گا۔خاکسار:۔استقامت بھی تو ملنی چاہیے۔حضرت اقدس:۔ہاں یہ سچ ہے کہ استقامت ہونی چاہیے اور یہ استقامت بھی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم ہی سے ملتی ہے۔ایک ادنے درجہ کا فقیر بھی ایک بخیل سے بخیل انسان کے دروازہ پر جب دھرنا مار کر بیٹھ جاتا ہے تو کچھ نہ کچھ لے کر ہی اٹھتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ تو رحیم و کریم ذات ہے۔یہ نا ممکن ہے کہ کوئی اس کے دروازہ پر گرے اور خالی اُٹھے۔اگر چاہتے ہو کہ ساری مرادیں پوری ہو جاویں تو یہ اس کے فضل سے ہوں گی۔بعض اوقات انسان کو یہ بھی دھوکا لگتا ہے۔حالانکہ بات یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ احتیاج سے ہی انسان کو بری کر دیتا ہے۔لکھا ہے کہ ایک بادشاہ کا گذر ایک فقیر پر ہوا جس کے پاس صرف ستر پوشی کے لیے چھوٹا سا پارچہ تھا مگر وہ بہت خوش تھا۔بادشاہ نے اس سے پوچھا کہ تو اس قدر خوش کیوں ہے؟ فقیر نے جواب دیا جس کی ساری ہی مراد میں پوری ہو جائیں وہ خوش نہ ہو تو اور کون ہو۔بادشاہ کو بڑی حیرانی ہوئی۔اس نے پوچھا کہ تیری ساری مرادیں پوری ہوگئی ہیں ؟ فقیر نے کہا کہ کوئی مراد ہی باقی نہیں رہی۔حقیقت میں حصول مراد د و ی قسم کا ہوتا ہے: ”یا پالے یا ترک۔غرض بات یہی ہے کہ خدایا بی اور خدا شناسی کے لیے ضروری امر یہی ہے کہ انسان دعاؤں میں لگا رہے۔زنانہ حالت اور بزدلی سے کچھ نہیں ہوتا۔اس راہ میں مردانہ وار قدم اٹھانا چاہیے اور ہر قسم کی تکلیفوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔خدائے تعالیٰ کو مقدم کرنے میں گھبرائے نہیں۔پھر اُمید کی جاتی ہے کہ اللہ تعالی دستگیری کرے گا اور اطمینان عطا فرمائے گا۔ان باتوں