حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 254 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 254

حیات بقا پوری 254 ۸۱ پٹواریوں کی رقم: ایک شخص نے جو اپنی جماعت میں داخل ہیں۔اور پٹواری ہیں۔بذریعہ خط و کتابت حضرت کی خدمت میں عرض کی کہ پٹواریوں کے واسطے کچھ رسوم گورنمنٹ کی طرف سے مقرر ہیں۔مگر عام رسم ایسی بڑھ گئی ہے کہ پٹواری بعض باتوں میں اس سے زیادہ یا اس کے علاوہ بھی لیتے ہیں۔اور زمیندار بخوشی خاطر خود ہی بغیر مانگے کے دے جاتے ہیں۔آیا اس کا لینا جائز ہے یا کہ نہیں؟ فرمایا۔اگر ایسے لینے کی خبر با ضابطہ حکام تک بالفرض پہنچ جائے اور بموجب قانون اس پر فتنہ اٹھنے کا خوف ہو سکتا ہو۔تو یہ نا جائز ہے۔۸۲ فونوگراف میں نظم:۔( بدر ۲۴ مئی ۱۹۰۸ء) ایک شخص نے عرض کیا کہ کیا جائز ہے۔کہ حضور کی نظمیں فونوگراف میں بند کر کے لوگوں کو سنائی جائیں۔فرمایا۔اعمال نیت پر موقوف ہیں۔تبلیغ کی خاطر اس طرح سے نظم فونوگراف میں سُنانا جائز ہے۔کیونکہ اشعار سے بسا اوقات لوگوں کے دلوں کو نرمی اور رفت حاصل ہوتی ہے۔( بدر ۲۴ مئی ۱۹۰۸ء) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر کا درجہ :۔۱۹۰۶ء کے جلسہ سالانہ کی واپسی پر خواجہ صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ملنے کے لئے مسجد مبارک میں آئے۔میں بھی وہاں بیٹھا ہوا تھا۔خواجہ کمال الدین صاحب نے حضرت سے عرض کی کہ حقیقتہ الوحی کے حاشیہ پر سعد اللہ لدھیانوی کے متعلق جو آپ نے تحریر فرمایا ہے۔کہ اُس کا لڑکا نامرد ہے۔اس کو کٹوادیں۔کیونکہ سعد اللہ مقدمہ کرے تو اس کا ثبوت ہمارے پاس کوئی نہیں۔حضرت اقدس نے فرمایا۔میں نے اس کو خدا تعالیٰ کی منشاء کے ماتحت لکھا ہے۔میں اس کو نہیں کٹواؤں گا خواجہ صاحب نے کہا کہ آپ نے خدا کے الہام سے تو نہیں لکھا۔حضور نے فرمایا۔کہ خدا تعالیٰ کا طرز میرے ساتھ یہ ہے کہ جوتحریر اس کی مرضی کے خلاف ہو وہ مجھے روک دیتا ہے۔چونکہ اس نے روکا نہیں لہذا اس کی مرضی اس میں ہے۔