حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 253 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 253

حیات بقا پوری 253 ۷۹۔پیل پایوں میں کھڑا ہونا:۔پیل پایوں کے بیچ میں کھڑے ہونے کا ذکر آیا کہ بعض احباب ایسا کرتے ہیں۔فرمایا۔اضطراری حالت میں تو سب جائز ہے۔ایسی باتوں کا چنداں خیال نہیں کرنا چاہیئے۔اصل بات تو یہ ہے کہ خدا کی رضامندی کے موافق خلوص دل کے ساتھ اس کی عبادت کی جائے۔ان باتوں کی طرف کوئی خیال نہیں کرتا۔۸۰۔زندگی کا بیمہ کرانا منع ہے:۔ایک دوست کا ایک خط حضرت کی خدمت میں پیش ہوا جس میں لکھا تھا:۔بحضور جناب مسیح موعود مهدی مسعود علیہ السلام ( بدر ۱۳ فروری ۱۹۰۸ء) مارچ ۱۹۰۰ء میں میں نے زندگی کا بیمہ واسطے دو ہزار روپیہ کے کرایا تھا۔شرائط یہ تھیں۔کہ اس تاریخ سے تا مرگ میں۔۔۔سالانہ بطور چندہ کے ادا کرتا رہوں گا۔تب دو ہزار روپیہ بعد مرگ کے میرے وارثان کو ملے گا۔اور زندگی میں روپیہ لینے کا حقدار نہ ہوں گا۔ابتک میں نے تقریباً مبلغ چھ سو روپیہ کے بیمہ کرنے والی کمپنی میں دے دیا ہے۔اب اگر میں اس بیمہ کو توڑ دوں تو بموجب شرائط اس کمپنی کے صرف تیسرے حصہ کا حق دار ہوں۔یعنی دو صد روپیہ ملے گا۔اور باقی چار صد روپیہ ضائع جائے گا۔مگر چونکہ میں نے آپ کے ہاتھ پر اس شرط کی بیعت کی ہوئی ہے۔کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔اس واسطے بعد اس مسئلہ کے معلوم ہو جانے کے میں ایسی حرکت کا مرتکب ہونا نہیں چاہتا جو خدا اور اس کے رسول کے احکام کے برخلاف ہو۔اور آپ حکم عدل ہیں۔اس واسطے نہایت عجز سے ملتی ہوں کہ جیسا مناسب حکم ہو صا در فرمایا جاوے تاکہ اس کی تعمیل کی جاوے۔اس کے جواب میں حضرت نے فرمایا کہ زندگی کا بیمہ جس طرح رائج ہے اور سُنا جاتا ہے۔اُس کے جواز کی ہم کوئی صورت بظاہر نہیں دیکھتے کیونکہ یہ ایک قمار بازی ہے۔اگر چہ وہ بہت سار و پیہ خرچ کر چکے ہیں۔لیکن اگر وہ جاری رکھیں گے تو رو پید اُن سے اور بھی زیادہ گناہ کرائے گا۔اُن کو چاہیے کہ آئندہ زندگی میں گناہ سے بچنے کے واسطے اس کو ترک کر دیویں اور جتنار و پید اب مل سکتا ہے وہ واپس لے لیں۔( بدر ۹ اپریل ۱۹۰۸ء)