حیاتِ بقاپوری — Page 234
حیات بقاپوری مرزا غلام احمد۔( بدر ۲ مئی ۱۹۰۷ء) 234 -۲ غیر کفو میں نکاح: ایک دوست کا خط حضرت اقدس کی خدمت میں پیش ہوا۔کہ ایک احمدی اپنی لڑکی غیر کفو میں ایک احمدی کے ہاں دینا چاہتا ہے۔حالانکہ اپنی کفو میں رشتہ موجود ہے۔اس کے متعلق آپ کا کیا حکم ہے۔فرمایا۔حسب مراد رشتہ ملے تو اپنی کفو میں کرنا بہ نسبت غیر کفو کے کرنا بہتر ہے۔لیکن یہ امرایسا نہیں کہ بطور فرض کے ہو۔ہر ایک شخص ایسے معاملات میں اپنی مصلحت اور اپنی اولاد کی بہتری کو خوب سمجھتا ہے۔اگر کفو میں وہ کسی کو اس لائق نہیں دیکھا تو دوسری جگہ رشتہ دینے میں حرج نہیں۔اور ایسے شخص کو مجبور کرنا کہ وہ بہر حال اپنی کفو میں اپنی لڑکی دیوے جائز نہیں ہے۔( بدر 11 اپریل 9ء) ۲۴۔جوتا پہن کر نماز پڑھنا:۔اور اس بات کو خانقاہ کے کارندوں نے بُرا منایا۔ذکر تھا کہ امیر کابل اجمیر کی خانقاہ میں بُوٹ پہنے ہوئے چلا گیا تھا اور ہر جگہ بوٹ پہنے ہوئے نماز پڑھی۔حضرت نے فرمایا کہ اس معاملہ میں امیر حق پر تھا۔جوتی پہنے ہوئے نماز پڑھنا شرعاً جائز ہے۔۲۵- معالجہ و ہمدردی: (بدر ۱۱ اپریل ۱۹۰۷ء) سوال پیش ہوا کہ طاعون کا اثر ایک دوسرے پر پڑتا ہے۔ایسی صورت میں طبیب کے واسطے کیا حکم ہے؟ فرمایا۔طبیب اور ڈاکٹر کو چاہیئے کہ علاج معالجہ کرے اور ہمدردی دکھائے لیکن اپنا بچاؤر کھے۔بیمار کے بہت قریب جانا اور مکان کے اندر جاتا اس کے واسطے ضروری نہیں ہے۔وہ حال معلوم کر کے مشورہ دے۔ایسا ہی خدمت کرنے والوں کے واسطے بھی ضروری ہے کہ اپنا بچاؤ بھی رکھیں اور بیمار کی ہمدردی بھی کریں۔( بدر ۴ اپریل ۱۹۰۷ء)