حیاتِ بقاپوری — Page 232
حیات بقاپوری 232 لینا چاہیے۔مثلاً پتے پڑ جائیں یا کیڑے وغیرہ۔باقی یہ کوئی مقدار نہیں۔جب تک رنگ بو یا مزہ نجاست سے نہ بدلے وہ پاک ہے۔( بدر یکم اگست ۱۹۰۷ء) ۱۹۔امام کے سلام پھیرنے سے پہلے سلام پھیر دینا:۔۱۲۶ اپریل ۱۹۵۷ء کو نماز مغرب میں نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے چونکہ امام کی آواز آخری صفوں تک نہیں پہنچتی تھی۔اس لئے درمیانی صفوں میں سے ایک شخص حسب معمول بلند آواز سے تکبیر کہتا جاتا تھا۔آخری رکعت میں جب تشہد میں بیٹھے اور التحیات اور درود شریف پڑھ چکے اور قریب تھا کہ امام صاحب سلام کہیں مگر ہنوز انہوں نے سلام نہ کہا تھا کہ درمیانی مکر کو غلطی لگی اور اُس نے سلام کہدیا۔جس پر آخری صفوں کے نمازیوں نے بھی سلام کہدیا اور بعض نے سنتیں بھی شروع کر دیں کہ امام نے سلام پھیر دیا۔اور درمیانی مکبر نے جو اپنی پہلی غلطی پر آگاہ ہو چکا تھا دوبارہ سلام کہا۔اس پر اُن نمازیوں نے جو پہلے سے سلام کہہ چکے تھے اور نماز سے فارغ ہو چکے تھے۔مسئلہ دریافت کیا کہ آیا ہماری نماز ہوگئی یا ہم دوبارہ نماز پڑھیں۔صاجزادہ میاں محمود احمد صاحب ( مصلح موعود) نے جو خود بھی پچھلی صفوں میں تھے اور امام سے پہلے سلام کہہ چکے تھے فرمایا یہ مسئلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت کیا جا چکا ہے۔حضرت نے فرمایا ہے آخری رکعت میں التحیات پڑھنے کے بعد اگر ایسا ہو جائے تو مقتدیوں کی نماز ہو جاتی ہے دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔۲۰۔ایک مسجد میں دو جمعے:۔( بدرستی ۱۹۰۷ء) سوال پیش ہوا۔کہ بعض مساجد اس قسم کی ہیں کہ وہاں احمدی اور غیر احمدی کو اپنی جماعت اپنے امام کے ساتھ الگ الگ کرالینے کا اختیار قانو نا یا با ہمی مصالحت سے حاصل ہوتا ہے۔تو ایسی جگہ جمعہ کے واسطے کیا کیا جاوے۔کیونکہ ایک مسجد میں دو جمعے جائز نہیں ہو سکتے ؟ فرمایا جو لوگ تم کو کافر کہتے ہیں اور تمہارے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔وہ تو بہر حال تمہاری اذان اور تمہاری نماز جمعہ کو اذان اور نماز سمجھتے ہی نہیں۔اس واسطے وہ تو پڑھ لیں گے۔اور چونکہ وہ مومن کو کافر کہہ کر بموجب حدیث خود کا فر ہو چکے ہیں۔اس واسطے تمہارے نزدیک بھی اُن کی اذان اور نماز عدم وجود برابر ہے۔تم اپنی اذان کہو اور اپنے امام کے ساتھ جمعہ پڑھو۔