حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 230 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 230

حیات بقاپوری 230 حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا رواج ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں غلط ہے۔صحیح وہی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ نماز تراویح دونوں طرح جائز ہے۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔-۱۵ معاملات تجارت میں سود : ایک صاحب کا ایک خط حضرت کی خدمت میں پہنچا۔کہ جب بنکوں کے سود کے متعلق حضور نے اجازت دی ہے کہ موجودہ زمانہ اور اسلام کے حالات کو مد نظر رکھ کر اضطرار کا اعتبار کیا جائے سو اضطرار کا اصول چونکہ وسعت پذیر ہے اس لئے ذاتی ملکی قومی تجارتی وغیرہ اضطرارات بھی پیدا ہو کر سود کا لین دین جاری ہو سکتا ہے یا نہیں؟ فرمایا۔اس طرح سے لوگ حرام خوری کا دروازہ کھولنا چاہتے ہیں کہ جو جی چاہے کرتے پھریں۔ہم نے یہ نہیں کہا کہ بنگ کا سود بسبب اضطرار کے کسی انسان کو لینا اور کھانا جائز ہے۔بلکہ اشاعت اسلام اور دینی ضروریات کے لیے اس کا خرچ کرنا جائز قرار دیا گیا ہے۔وہ بھی اُس وقت تک کہ امداد دین کے واسطے رو پیل نہیں سکتا۔اور دین غریب ہو رہا ہے۔کیونکہ کوئی شئے خدا کے واسطے تو حرام نہیں۔باقی رہی اپنی ذاتی ملکی، قومی اور تجارتی ضروریا ت سوان باتوں کے واسطے سود بالکل حرام ہے۔وہ جواز جو ہم نے بتلایا ہے وہ اس قسم کا ہے کہ مثلا کسی جاندار کو آگ میں جلانا شرعاً منع ہے لیکن اس زمانہ میں اگر کہیں جنگ پیش آوے تو توپ بندوق کا استعمال کرنا مسلمانوں کیلئے جائز ہے۔کیونکہ دشمن بھی اس کا استعمال کر رہا ہے۔۱۶ سانڈ رکھنا:۔ایک شخص نے سوال کیا کہ خالصتہ لوجہ اللہ نسل افزائی کی نیت سے اگر کوئی سائڈ چھوڑ دے تو کیا یہ جائز ہے فرمایا۔اصل الشيء الا باحة - اشیاء کا اصل اباحت ہی ہے۔جنہیں خدا تعالیٰ نے حرام فرمایا وہ حرام ہیں باقی حلال۔بہت سی باتیں نیت پر موقوف ہیں۔میرے نزدیک تو صرف جائز ہی نہیں بلکہ ثواب کا کام ہے۔عرض کیا گیا کہ قرآن شریف میں جو سانڈ کے متعلق حکم آیا ہے۔ولا مسام فرمایا۔میں نے جواب دیتے وقت اسے زیر نظر رکھ لیا ہے۔وہ تو دیوتاؤں کے نام پر چھوڑتے تھے۔یہاں خاص خدا تعالیٰ کے نام پر ہے۔نسل افزائی ایک ضروری بات ہے۔خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں انعام وغیرہ کو اپنی نعمتوں میں سے فرمایا ہے۔سو اس نعمت کی قدر کرنا