حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 225 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 225

حیات بقاپوری 225 سے پکارا ہے اور اس کے خواص میرے اندر رکھ دئے ہیں۔اگر میرے مخالف یہ معجزہ دیکھنا چاہتے ہیں تو وہ بھی نمرود کی طرح آگ جلائیں اور مجھے میری مرضی کے خلاف اُس میں ڈال دیں۔میں اُس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس نے مجھے ابراہیم کہا ہے وہی مجھ پر وہ آگ ٹھنڈی کر دے گا۔دوسری دفعہ کا واقعہ یوں ہے کہ ایک دوست کا خط حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں پیش ہوا۔کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر جو آگ ٹھنڈی ہو گئی تھی۔آیانی الواقع وہ آتش ہیزم تھی یا فتنہ و فساد کی آگ تھی۔تو اس کا جواب جو حضرت اقدس علیہ السلام نے دیا ہے۔وہ یہی ہے کہ وہ آگ یہی ظاہری آتش تھی۔(الحكام۔اجون عشاء)۔مرنے پر طعام کھلانا:۔قاضی اکمل صاحب نے عرض کیا کہ دیہات میں دستور ہے۔کہ شادی غمی کے موقع پر ایک قسم کا خرچ کرتے ہیں۔مثلاً جب کوئی چودھری مرجاوے تو تمام مسجدوں داروں و دیگر کمیوں کو بحصہ رسدی کچھ دیتے ہیں۔اس کے نسبت حضور کا کیا ارشاد ہے۔فرمایا کہ طعام جوکھلایا جاوے اُس کا مردہ کو ثواب پہنچ جاتا ہے۔گو ایسا مفید نہیں جیسا کہ وہ اپنی زندگی میں خود کر جاتا۔عرض کیا گیا۔حضور وہ خرچ وغیرہ کمیوں میں بطور حق الخدمت کے تقسیم ہوتا ہے۔فرمایا۔تو پھر کچھ حرج نہیں۔یہ ایک علیحدہ بات ہے۔کسی کی خدمت کا حق تو دے دینا چاہیئے۔عرض کیا گیا۔اس میں فخر ور یا ضرور ہوتا ہے۔یعنی دینے والے کے دل میں یہ ہوتا ہے کہ مجھے کوئی بڑا آدمی کہے۔فرمایا۔بہ نیت ایصال ثواب تو پہلے ہی وہ خرچ نہیں حق الخدمت ہے۔بعض ریاء شرعاً بھی جائز ہیں۔مثلاً چندہ وغیرہ نماز با جاعت ادا کرنے کا جو حکم ہے تو اسی لئے کہ دوسروں کو ترغیب ہو۔غرض اظہار واخفاء کے لئے موقع ہے۔اصل بات یہ ہے کہ شریعت سب رسوم کو منع نہیں کرتی۔اگر ایسا ہوتا تو پھر ریل پر چڑھنا۔تارڈاک کے ذریعہ خبر منگوانا اسب بدعت ہو جاتے۔(بدر) جنوری ۱۹۰۷ ء )