حیاتِ بقاپوری — Page 222
حیات بقاپوری 222 کیسے ہی ادنی درجے کی حدیث ہو اس پر عمل کریں۔اور انسان کی بنائی ہوئی فقہ پر اس کو ترجیح دیں۔اور اگر حدیث میں کوئی مسئلہ نہ ملے اور نہ سنت میں اور نہ قرآن میں مل سکے تو اس صورت میں فقہ حنفی پر عمل کر لیں۔کیونکہ اس فرقہ کی کثرت خدا کے ارادے پر دلالت کرتی ہے۔اور اگر بعض موجودہ تغیرات کی وجہ سے فقہ حنفی کوئی صحیح فتوی نہ دے سکے تو اس صورت میں علماء اس سلسلہ کے اپنے خدا داد اجتہاد سے کام لیں۔لیکن ہوشیار ر ہیں کہ مولوی عبد اللہ چکڑالوی کی طرح بے وجہ احادیث سے انکار نہ کریں۔ہاں ! جہاں قرآن اور سنت سے کسی حدیث کو معارض پاویں۔تو اس حدیث کو چھوڑ دیں۔ریویو مباحثہ بٹالوی چکڑالوی صه ۵-۶) حنفی اور اہل حدیث افراط تفریط میں مبتلا ہیں:۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:۔اس عاجز کی دانست میں مقلدین و غیر مقلدین کے عوام افراط تفریط میں مبتلا رہے ہیں۔اور اگر وہ صراط مستقیم کی طرف رجوع کریں۔تو حقیقت میں ایک ہی ہیں۔دین اسلام کا مغز اور لب لباب تو حید ہے۔اس توحید کے پھیلانے کی غرض سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے۔اور قرآن شریف نازل ہوا سوتو حید اس بات کا نام نہیں۔کہ جو خدا تعالیٰ کو زبان سے وحدہ لاشریک کہیں اور دوسری چیزوں کو خدا تعالی کی طرح سمجھ کر ان سے مرادیں مانگیں۔اور نہ تو حید اس بات کا نام ہے کہ گو بظا ہر تقدیری اور شرعی امور کا مبدا اس کو سمجھیں۔مگر اس کی تقدیر اور تشریح میں دوسروں کا اس قدر داخل روا سمجھیں کہ گویا وہ اس کے بھائی بند ہیں۔مگر افسوس کہ عوام مقلدین ( حنفی ) ان دونوں قسموں کی آفتوں میں مبتلا پائے جاتے ہیں۔ان کے عقائد میں بہت کچھ شرک کی باتوں کو دخل ہے۔اور اولیاء کی حیثیت کو انہوں نے ایسا حد سے بڑھا دیا ہے۔کہ اَرُ بَاباً مِنْ دُونِ الله تک نوبت پانچ گئی ہے۔دوسری طرف امور تشریعی میں آئمہ مجتہدین کی حیثیت کو ایسا بڑھایا ہے کہ گویا وہ بھی ایک چھوٹے نبی مانے گئے ہیں۔حالانکہ جیسا امور قضاء و قدر میں وحدت ہے۔ایسا ہی تبلیغ احکام شریعت میں بھی وحدت ہے۔مقلد لوگ تب ہی راستی پر آسکتے ہیں۔اور اسی حالت میں ان کا ایمان درست ہوسکتا ہے۔جب صاف صاف یہ اقرار کریں کہ ہم آئمہ مجتہدین کی خطا کو ہرگز تسلیم نہیں کریں گے۔غضب کی بات ہے کہ غیر معصوم معصوم کی طرح مانا جائے۔ہاں ! بیشک چاروں امام قابل تعظیم و شکر گذار