حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 205 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 205

حیات بقا پوری 205 رائے تھی، کہ چونکہ یہ کتاب یورپ و امریکہ میں بھیجنی ہے، اس لئے اگر اس ترجمہ پر مکرم اخوند عبد القادر صاحب پر وفیسر تعلیم الاسلام کا لج ربوہ نظر ثانی فرمالیں تو بہتر ہے کیونکہ انہیں انگریزی میں اعلیٰ دسترس ہے۔اتفاق سے اسی شام کے وقت اخوند صاحب موصوف میرے مکان پر تشریف لائے اور اپنے بیٹے کے متعلق فرمایا، کہ اس سال اس نے بی۔اے کا امتحان دینا ہے، اس کی اعلیٰ نمبروں پر کامیابی کیلئے دعا فرما ئیں۔میں نے جان لیا کہ یہ تقریب اللہ تعالیٰ نے میری کتاب کے ترجمے کی نظر ثانی کے لئے پیدا فرمائی ہے اور وہ اپنے فضل و کرم سے اس کے لڑکے کو بھی کامیاب فرمائے گا۔میں نے اخوند صاحب موصوف سے وعدہ کیا کہ میں آپ کے لڑکے کیلئے انشاء اللہ تعالیٰ دعا کرونگا لیکن میرا بھی ایک کام ہے، وہ آپ سرانجام فرمائیں۔اور بتایا۔اس پر انہوں نے فرمایا، پرسوں آپ کی کتاب لے جاؤں گا، اور دعا کا نتیجہ بھی جو ظاہر ہو اسن جاؤں گا۔میں نے دعا کی۔اللہ تعالیٰ نے بندہ نوازی فرماتے ہوئے اطلاع دی که وہ اعلیٰ نمبروں پر پاس ہو جائے گا دوسرے دن اخوند صاحب بھی آگئے۔انہیں یہ خوش خبری سنائی گئی ، اور وہ خوش خوش میری کتاب بھی لے گئے۔الحمد للہ ! نتیجہ نکلنے پر ان کا لڑکا کامیابی میں اول نمبر پر آیا اور میری کتاب کا ترجمہ بھی شاندار طور پر مقبول ہوا۔چنانچہ یہ کتاب جلسہ سالانہ ۱۹۵۶ء پر شائع ہوئی اور زبان دانی کے لحاظ سے اس کی انگریزی ہائی نکلی۔فالحمد للہ! ۱۴۶ فروری ۱۹۵۷ء میں مکرم صاجزادہ مرزا منیر احمد صاحب کا خط آیا۔جس میں طارق بس کی مستقل منظوری کے متعلق دعا کی تحریک کی گئی تھی۔جس پر میں نے تین چار روز متواتر دعا کی۔غنودگی میں مجھے یہ آواز سنائی دی: اُن کے جھنڈے لہراتے ہی رہیں گئے یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے۔چنانچہ بفضلہ تعالی جولائی ۱۹۵۷ء میں انہیں منظوری مل گئی۔۱۴۷ ۲ مئی ۱۹۵۷ء کو عزیز محمد اشرف کی امتحان میں کامیابی کے لئے دعا کی تو خواب میں مجھے بتایا گیا کہ: وہ پاس ہو جائے گا چنانچہ وہ کامیاب ہو گیا۔