حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 200 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 200

حیات بقاپوری 200 تہجد میں زبان پر جاری ہوا: نسلاً بعد نسل ۱۳۸ ۲ مارچ ۱۹۵۶ء کا واقعہ ہے۔کہ ایک شخص مسمی ولی محمد سکنہ موضع قاضی کوٹ میرے پاس آیا اور کہا کہ میرا بیٹا ٹائیفائیڈ بخار میں مبتلا ہے۔اسے ڈاکٹر صاجزادہ مرزا منور احمد صاحب کو دکھایا ہے۔انہوں نے جو دوائی اس کے لئے تجویز فرمائی ہے وہ بہت گراں ہے جو چالیس روپے سے کم میں نہیں آتی۔میں غریب آدمی ہوں، آپ دعا فرمائیں اور استخارہ بھی کریں کہ اگر میرے بیٹے کی زندگی ہے، اور علاج سے بچ جاتا ہے، تو قرض اٹھا کر بھی یہ دوائی خریدوں۔میں نے دعا کی تو دوسرے دن الہاما بتایا گیا کہ: وہ بچ جائے گا۔علاج کراؤ۔چنانچہ اس نے قرض لے کر علاج کرایا اور لڑکا شفایاب ہو گیا۔چنانچہ چوہدری محمود احمد صاحب سکنہ چور چک نمبر۱۱۷ ایک خط میں لکھتے ہیں: السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ رنگ علی نے مجھ سے بیان کیا کہ میں بیمار تھا اور مجھے ٹائیفائیڈ ہو گیا تھا۔میرا والد ولی محمد صاحب مجھے ڈاکٹر حضرت مرزا منور احمد صاحب کے پاس لے کر آیا۔حضرت میاں صاحب نے فرمایا کہ اس کی دوائی چالیس روپے میں آئے گی۔میرے والدین یہ خرچ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔چنانچہ میرے والد صاحب میاں غلام نبی صاحب رئیس قاضی کوٹ کا رقعہ لے کر حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری کے پاس آئے۔اور کہا کہ آپ دعا فرما ئیں اگر اس نے تندرست ہو جانا ہو تو ہم اس کا علاج کریں۔چنانچہ انہوں نے دعا کی اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے القاء کیا ہے کہ تم علاج کراؤ، وہ بچ جائے گا۔چنانچہ میرا علاج ہوا، اور اب میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بالکل تندرست ہوں۔یہ میں نے ایک سچی گواہی کے طور پر تحریر کیا ہے۔محمود احمد چھور چک نمبر ۱۱۷ ۳۰ اگست ۱۹۵۸ء ۱۳۹ ۷۔مارچ ۱۹۵۶ء کو میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری کے مکان پر گیا۔انہوں نے اپنے بیٹے مکرم مسعود احمد صاحب کے متعلق جن پر ایک مقدمہ دائر کیا گیا تھا، با عزت بریت کے لئے دعا کی تحریک کی۔میں نے کہا، آؤ ہم چاروں مل کر دعا کریں (یعنی میں اور میری اہلیہ۔مولوی قدرت اللہ صاحب اور ان کی اہلیہ