حیاتِ بقاپوری — Page 180
حیات بقا پوری 180 ۲۶۔جولائی ۴۳ کو میں نے ایک رویاء دیکھی جس کی تعبیر یہ تھی۔کہ اگر وہ بھی نیکی کا کام کرے یعنی میرے لڑکے محمد اسمعیل کو ترقی دے دے جو اس کا حق ہے تو اس کو بھی ترقی مل جائے گی۔شیخ صاحب کو اس کی اطلاع دے دی گئی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ عزیز محمد اسمعیل کو بھی ترقی ہو گئی اور شیخ صاحب کو بھی وہی عہدہ سیکرٹری کا خدا تعالیٰ کے فضل سے مل گیا۔۸۲ دعا کرتے وقت اگر طبیعت میں بشاشت ہو اور زبان سے الفاظ بے ساختہ نکلتے جائیں اور طبیعت دعا کی طرف مائل ہو اور اضطراب پیدا ہو جائے تو سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دعا قبول ہو گئی۔چنانچہ ۱۴۔جون ۱۹۴۳ء کو میں نے اپنے بیٹے محمد اسمعیل بقا پوری کی ترقی کی بابت دعا کی تو ویسے ہی الفاظ بے تکلف مُنہ سے نکلے اور توجہ قائم ہو گئی اور یوں معلوم ہوا کہ گو یا الفاظ کہلوائے جاتے ہیں جس سے دل مطمئن ہوا کہ ترقی کے اسباب انشاء اللہ ابھی سے شروع ہو جائیں گے۔اس کو چاہیے کہ اطاعت و انابت اختیار کرے۔چنانچہ عزیز مذکور کو اس بات کی اطلاع کر دی گئی۔الحمد للہ کہ ۱۹۵۱ء سے ترقی پاکر سپرنٹنڈنٹ ہو گئے ہیں۔۸۳ - ۱۱۔اکتوبر ۱۹۴۹ء کو رویا میں دیکھا کہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے مکان پر حضرت میاں بشیر احمد صاحب قبلہ اور خاکسار حضور انور کے ہمراہ کھانا کھا رہے ہیں۔کھانے کے بعد محبت آمیز باتیں ظرافت کے رنگ میں شروع ہو گئیں۔خاکسار نے عرض کیا کہ حضور کے ہمراہ کھانا کھانے میں مزہ نہیں آتا۔کیونکہ حضور کے رعب کی وجہ سے حضور کے سامنے کھانا کھانے میں یہی خیال رہتا ہے۔کہ کہیں اس میں بھی کوئی غلطی نہ ہو جائے۔حضور سنکر خاموش رہے۔لیکن حضرت میاں صاحب نے فرمایا کہ ہے تو ٹھیک۔آدمی بے تکلف ہو کر نہیں کھا سکتا۔گھر کے اندر سے ایک ملازم کو بلایا گیا۔جو میرے ساتھ کچھ باتیں کر کے چلا گیا تھا۔میں اسکو چمیاری کے نام سے آوازیں دیتا ہوں۔حضور انور میری طرف تعجب سے دیکھتے ہیں۔کیونکہ اُس کا اصل نام مجھے آتا نہیں اور اس فرضی نام سے اس کو بلاتا ہوں۔میں نے اس پر سہارنپور کا مندرجہ ذیل واقعہ سنا کر حضور انور کو بتلایا کہ جہاں میں فرضی باتیں بھی بنائی جاتی ہیں۔پھر آنکھ کھل گئی۔سہارنپور کا واقعہ یہ ہے کہ کچہری میں ایک مسل خوان تھا۔جو کیسی ہی شکستہ خط کی مسل ہو وہ اپنی طرف سے عبارت بنا کرشنا دیا کرتا تھا۔وکلا نے مشورہ کر کے ایک صاف فلسکیپ کا غذ پر لکیریں الفاظ کی طرز پر کھینچ کر مسل میں