حیاتِ بقاپوری — Page 173
حیات بقاپوری 173 ۵۷ ۲۰ اکتوبر ۱۹۴۹ء کو دیکھا کہ احمد کے گھر سے رونے کی آواز آرہی ہے۔محمد الحق نے بتایا کہ ان کا ایک لڑکا فوت ہو گیا ہے جس سے اُن کو پچاس روپے ماہوار کا نقصان ہوا ہے۔یہ رویا اس طرح پوری ہوئی کہ ششماہی امتحان میں عزیز محمد الحق فیل ہو گیا جس کی وجہ سے چھ ماہ تک اس پر ہم کو پچاس روپے ماہوار خرچ کرنے پڑے۔۵۸ ۵ نومبر ۱۹۵۰ ء ماڈل ٹاؤن لاہور کی کوٹھی کے باغ کے لیے میں نے پانی کی کوشش کی تھی۔کیا دیکھتا ہوں کہ کوٹھی کی نالی پانی سے بھری ہوئی بہہ رہی ہے اور مکرمی نواب محمد عبد اللہ خان صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ سے میں اپنی عمر کے متعلق بیان کر رہا ہوں کہ پونے دو سال یا دو سال رہتی ہے۔وہ منکر حیران ہو رہے ہیں۔میں پھر کہتا ہوں دو سال رہتے ہیں۔اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ مدت اللہ تعالیٰ نے مجھے بالمشافہ بتائی ہے۔اور مجھے کسی قسم کا غم نہیں بلکہ خوشی ہے اور اللہ تعالیٰ کے پاس جانے پر راضی ہوں۔صبح کو دیکھا کہ پانی کی نالی سے پانی ہماری کوٹھی میں یہ رہا ہے۔الحمد للہ۔۵۹۔میں نے ربوہ آنے کے لیے کئی بار دعا کی لیکن مکان کا کوئی سامان نہ ہو سکا۔مجھے فرمایا گیا چھ ماہ تک نئے کواٹر بن جانے پر پرانے خالی ہو جائیں گے۔ے مئی ۱۹۵۰ء کو دعا کر رہا تھا کہ زبان پر جاری ہوا: 'ربوہ قادیان یا مکہ مدینہ جانا ایں یا میرے کول آنا ایں۔جاگنے پر خواہش دل میں اللہ تعالیٰ کے پاس جانے کی تھی۔۲۰ اپریل ۱۹۵۲ء میں حضرت امیر المومنین رضی اللہ عنہ کی عیادت کیلیے مع اہلیہ ربوہ میں آیا۔تو حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے میری اہلیہ کو فرمایا کہ مولوی صاحب یہاں ربوہ میں رہیں گے، انہیں ماڈل ٹاؤن نہ لے جائیں۔چنانچہ اس وقت سے میں نہیں رہ گیا۔ایک دن میں یہ خیال کر رہا تھا کہ مجھے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ ربوہ ، قادیان یا مکہ مدینہ جانا ایں یا میرے کول آنا ایں۔جس سے میں سمجھتا تھا کہ ربوہ جانے سے پہلے ہی میں اللہ تعالیٰ کے پاس چلا جاؤں گا۔تو آواز آئی: كَانَّ اللَّهَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ ۱ - ۲۷۔جولائی ۱۹۵۰ء کو دیکھا کہ جنگ کی وجہ سے انقلاب برپا ہے۔احمدی اپنی جگہوں سے بھاگ کر "