حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 166 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 166

حیات بقاپوری 166 شامل ہوا ہوں۔جب ہم دونوں نے اپنی طرز کے رکوع سے سر اٹھایا تو حافظ صاحب کہتے ہیں بڑی ہمت کر کے شامل ہو ہی گئے ہو چنانچہ اس کی تعبیر یوں ظاہر ہوئی کہ میں نومبر ۱۹۳۳ء میں مرکزی واعظ مقرر ہوا۔فالحمد للہ تعالیٰ۔۷ ماه جون ۱۹۴۰ء میں محمد اسمعیل بقا پوری کے لیے دعا کی۔خواب میں دیکھا کہ ایک میدان میں لوگ جمع ہیں۔ایک نے کہا کہ اسمعیل کی تنخواہ ۶۰ روپے سے شروع ہوگی دوسرے نے کہا ۱۰۰ روپے سے ہوگی۔چنانچہ ۱۴ اگست ۱۹۴۰ء کو ۶۰ روپے کی جگہ پر عارضی طور پر ملازم ہوا پھرا۔نومبر ۱۹۴۰ء کو مستقل ہو کر ایک سوروپے پر ترقی مل گئی۔الحمد للہ علی ذالک۔۳۸ ۲۵ جون ۱۹۴۲ء کو میں بعد نماز تہجد یہ خیال آنے پر دعا کر رہا تھا کہ میرے ہر دو محترم ساتھی حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی اور مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کو تو باعث ۱۹۰۰ء سے پہلے بیعت کرنے کے قطعہ خاص میں دفن ہونے کا موقعہ ملے گا۔مگر میں تو 1900 ء میں بیعت کرنے کی وجہ سے اس شرف اور نعمت سے محروم ہوں اور بعد میں آنیوالوں کی خاص دعاؤں سے بھی محروم رہوں گا۔قدرت خاص سے کسی طرح اس کی تلافی ہو جائے۔تو مجھے القاء ہوا کہ تم آخری وقت میں حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح قطعہ خاص کی تمنا کرنا جیسے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کی تھی۔اسکے کے بعد نظارہ بدل گیا۔چنانچہ اس دُعا کی قبولیت کا واقعہ یوں نمودار ہوا کہ حضرت امیر المومنین خلیفہ اسی الثانی ایدہ اللہتعالیٰ نے از راہ نوازش مجھے 190ء سے قبل بیعت کنندگان صحابہ قدیم کے زمرہ میں شمار فرمایا جیسا کہ ٹائٹل پیج (طبع اول۔مرتب) کے آخری ورقہ پر حضور کا ارشاد مندرج ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ در حقیقت میرا تعلق عقیدت وارادت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواة والسلام سے یقیناً ۱۹۰۰ء سے پہلے تھا۔مگر وہ ایمانی لذت اور روحانی کیفیت جو میں چاہتا ہوں وہ ابھی تک پیدا نہیں ہوئی تھی جس کی بناء پر میں نے ۱۹۰۵ء میں دوبارہ بیعت کی تھی۔جسے گویا بیعت تو بہ یا بیعت اخلاص سمجھئے جس کے بعد یک لخت میری طبیعت میں انقلاب پیدا ہوا۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے میرے اس پہلے تعلق کو جوڑتے ہوئے مجھے پرانے صحابہ میں شمار فرمایا۔فالحمد للہ۔