حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 143 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 143

حیات بقاپوری 143 کمرے میں سُن رہے تھے۔حضور انور نے بلند آواز سے فرمایا میں مولوی بقا پوری کی رائے سے متفق ہوں۔چنانچہ اُسی طرح کیا گیا۔حضور انور نے اپنے سب خدام کے ساتھ کھانا تناول فرمایا۔جس کا اثر خصوصاً غیر احمد یوں پر بہت ہی اچھا ہوا۔اور کہتے تھے کہ واقع میں محمدی اخلاق ان میں ہی پائے جاتے ہیں۔حَافِظُوا على الصلوات کی حکمت ایک دفعہ قادیان کے حلقہ ریتی چھلہ میں ایک مولوی صاحب چند نوجوان انگریزی دانوں سے آیت حافظوا على الصلوات والصلوة الوسطیٰ کی ترتیب کے متعلق یہ حکمت بیان فرما رہے تھے کہ اس آیت شریف کے آگے پیچھے میاں بیوی کے تعلقات کا ذکر ہے۔درمیان میں نمازوں کا ذکر کرنے سے یہ بتلایا ہے جس طرح میں نے نمازوں کو دنیاوی امور کے درمیان ذکر کیا ہے اسی طرح تم بھی نمازوں کو دنیاوی افعال کے درمیان ضرور ادا کر لیا کرو۔میں نے سُن کر مولوی صاحب سے عرض کیا کہ ایک حکمت یہ بھی ہے کہ چونکہ میاں بیوی کا جوڑا مجازی جوڑا ہے لہذا خاوند کو یہ سمجھانے کے لئے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ کس طرح مالی، جانی ، لسانی نرمی کا برتاؤ کرے۔خدا اور بندے کا جو حقیقی جوڑا ہے اس کا ذکر کر کے سمجھا دیا کہ جس طرح انسان چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے پر رحم فرماتا رہے اور میری کمزوریوں پر چشم پوشی فرماتا رہے۔اسی طرح کا برتاؤ خاوند اپنی بیوی سے کرے۔دوسرے ادھر توجہ دلائی ہے کہ جس طرح میاں بیوی کے تعلق کے واسطے حق مہر ضروری ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کے ساتھ بندے کا تعلق ہونے کے لئے نمازوں کا پڑھنا اور اُن پر حفاظت کرنا ضروری ہے۔کیونکہ نماز بندے اور خدا تعالیٰ کے درمیان تعلق ہونے کا واسطہ اور ذریعہ ہے۔۔شرک ناموں سے نہیں ۱۹۰۵ء میں جب کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گیا، تو میرے ایک ہم مکتب دوست مولوی نور احمد صاحب لکھو کے والا جو اہل حدیث تھا، میرے احمدی ہونے پر سخت برافروختہ ہوا۔اور مجھے طعنے دیتے ہوئے اعتراض کیا کہ تو نے کیوں بیعت کی۔توحید تو فرقہ اہل حدیث میں ہے۔