حیاتِ بقاپوری — Page 144
حیات بقا پوری 144 احمد یوں میں بعض مشرکانہ نام ان کے شرک پر دال ہیں۔مثلاً پیراں دتہ محمد بخش۔غلام احمد۔غلام رسول وغیرہ۔میں نے جواب دیا کہ شرک ان ناموں سے نہیں بلکہ مشرک تو مشرکانہ اعتقاد اور شرکیہ اعمال سے ہوتا ہے۔ناموں میں تو صرف تمیز اور توضیح مقصود ہوتی ہے۔ہمارا اعتقاد اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرانے کا نہیں ہے۔نہ صفات میں نہ افعال میں۔مگر آپ لوگ تو حضرت عیسی علیہ السلام کو خالق طیور اور زندہ مان کر اسے خدا تعالیٰ کی خالقیت اور حتی و قیوم کی صفت میں شریک ٹھیراتے ہیں۔ایسے مشرکانہ اعتقاد سے آپ صریح شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔اور غلام احمد اور غلام رسول ایسے ناموں پر اعتراض تو آپ کی خشک توحید کا نشان اور شقاوت قلیمی کی علامت ہے۔جس سے پتہ لگتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے آپ کے دل خالی ہیں۔اس قسم کے ناموں میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اعلیٰ روحانیت اور آپ کے روحانی فیوض و برکات کا امت میں فیضان کا اظہار ہے۔جو حضور کی غلامی کے طفیل یہ فیضان جاری ہے۔اسی بناء پر اللہ تعالیٰ بھی ایک موقعہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں: قل يعبادي الذين اسرفوا على انفسهم لا تقنطوا من رحمته الله أن الله يغفر الذنوب جميعاً۔(۵۴۳۹) اور پیراں دتہ نام کسی احمدی نے نہیں رکھا۔بلکہ اس کے غیر احمدی والدین نے یہ نام رکھا ہوا تھا۔مگر احمدیوں کے ہاں وہ عام طور پر پیر امشہور تھا۔ہاں کبھی صحیح تعارف کی خاطر اس کا اصلی نام بھی لے لیا جاتا۔اس قسم کے اعتراض تو محض تعصب کا نتیجہ ہوتے ہیں۔جیسا کہ بعض لوگ معاویہ کے نام پر اپنے دل کا بغض نکالتے ہیں۔فلسفہ قربانی ایک دفعہ ایک دوست نے مجھ سے پوچھا کہ قربانی کی فلاسفی اور حکمت کیا ہے۔میں نے کہا، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خطبہ الہامیہ میں اس کا تفصیل کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔آپ نے فرمایا ہے کہ اصلی غرض جانور کی قربانی سے اپنے نفس کی قربانی کرنا ہے۔اس طرح پر کہ انسان جب جانور کی قربانی کرنے لگے تو اپنے نفس کو یوں سمجھائے۔کہ "اے نفس ! جب تو نے چند روپے خرچ کر کے اس جانور کو خرید لیا ہے۔تو تیرا یہ حق ہو گیا ہے کہ تو اس کے گلے پر چھری رکھ دے۔اس طرح تجھے بھی چاہئیے کہ وہ ذات پاک جس نے تجھے جان، رزق اور دوسری نعمتیں دیں۔اس کی راہ میں تجھے بھی اپنی جان، مال اور ہر طرح کی قربانی پیش کر دینی چاہیئے۔“ اس پر اسی دوست نے کہا کہ یہ سبق نفس کو تب ہی حاصل ہوتا ہے جب وہ اپنے ہاتھ سے جانور ذبح