حیاتِ بقاپوری — Page 142
حیات بقا پوری 142 آج کل مسلمانوں میں رائج ہے، وہ بعض احمد یوں میں بھی ہے۔جس کی صورت یہ ہے، کہ ایک کے لڑکے اور لڑکی کا نکاح دوسرے کی لڑکی اور لڑکے کے ساتھ کر دیا جاتا ہے۔جو نکاح شغار کی طرح نظر آتا ہے، لیکن وہ شعار نہیں۔کیونکہ شغار میں حق مہر بالکل نہیں ہوتا۔لڑکی کے بدلے لڑکی دے دی جاتی تھی۔اور ہمارے ملک میں حق مہر اس کے علاوہ باندھتے ہیں۔اور آپ جانتے ہیں کہ جس نکاح میں حق مہر باندھا جائے وہ نکاح شغار نہیں رہتا۔اور نہ وہ حرام ہے۔ہاں معیوب ہے۔چنانچہ ہمارے حضرت مصلح موعود یدہ اللہ الودود نے اپنی خلافت کے ایک سالانہ جلسہ پر منشی عبداللہ صاحب سنوری مرحوم و مغفور کے کہنے پر صوفی عبد القدیر صاحب کے نکاح کا اعلان در دصاحب کی ہمشیرہ کے ساتھ اور درد صاحب کے نکاح کا اعلان صوفی عبد القدیر صاحب کی ہمشیرہ کے ساتھ بمعہ مہر مقررہ کے فرمایا۔اور بعد میں یہ بھی فرمایا تھا کہ میں بٹہ کے نکاح کو معیوب سمجھتا ہوں لیکن یہ نکاح ہے کا نہیں۔-Y اخلاق محمدی کا اظہار جس سال مجھے حضرت خلیفہ اسی الثانی ایدہ اللہ نصرہ العزیز نے اپنی سندھ کی زمینوں پر تشریف لے جاتے ہوئے فرمایا تھا کہ تم ہم سے پہلے جا کر ایک شہر میں سندھی احباب کو جمع کرنے کا انتظام کرو تا کہ میں اُن کو دیکھوں اور اُن میں تقریر کروں۔چنانچہ میں قادیان ہی میں حضرت میاں بشیر احمد صاحب قمر الانبیاء سے تاریخ اجتماع مقرر کر کے سندھ چلا گیا اور سندھیوں میں دورہ کر کے اُن کو بتا دیا کہ فلاں تاریخ کی شام کو نواب شاہ پہنچ جاؤ۔چنانچہ احباب تاریخ مقررہ کی رات کو ایک سو مرد اور چھپیں عورتیں خاص سندھی آگئے۔صبح حضور نے فرمایا کہ ہم پنج مورہ کی ز مین کا دورہ کر کے دس بجے تک واپس آتے ہیں اور آج دوپہر کے کھانے کا انتظام مولوی بقا پوری صاحب کے سپرد ہے۔جب کھانا کھانے کا وقت قریب ہوا تو بعض احباب نے کہا کہ حضرت صاحب اور رفقائے قادیان کو کھانے کے لئے الگ بیٹھا ئیں۔اور دوسرے سندھی اور پنجابیوں کو الگ۔میں نے کہا کہ کھانے کا انتظام حضور نے میرے سپرد کیا ہے۔اور یہاں سندھ میں یہ رواج ہے کہ پیر مریدوں کو بہت ہی حقیر جانتے ہیں۔اس لئے میری رائے تو یہ ہے کہ حضور انور اپنے تمام خدام سندھی اور پنجابیوں کے ساتھ بیٹھکر کھانا تناول فرما ئیں۔تو اس خلق عظیم کا اثر انشاء اللہ بہت ہی اچھا ہو گا۔اس پر بعض دوستوں نے کہا کہ اس بارہ میں حضور کی رائے مبارک لے لو۔یہ باتیں حضور انور اپنے