حیاتِ بقاپوری — Page 141
حیات بقاپوری 141 نے پوری حدیث پڑھکر سُنائی جو یہ ہے: حديث عن النبي صلى الله عليه وسلم قل من جرتوبه خيلاء لم ينظر الله اليه يوم القيامه فقال ابو بکر صدیق یا رسول الله ان احد شقى ازادى يسترخي الا ان اتعاهد ذالك منه فقال النبي صلى الله علیه و سلم لست من يصنعه خيلاء ہے۔ابو بکر نے کہا یا رسول اللہ میرا تہ بند تو ہمیشہ ہی ٹکتا ڈھلکتا رہتا ہے۔آپ نے فرمایا تو اُن لوگوں میں سے نہیں فرضوں کے بعد ہاتھ اُٹھا کر دعا مانگنا 19 ء یا ۱۹۱۷ء کا واقعہ ہے کہ میں امرتسر میں تھا۔ایک اہلِ حدیث مولوی صاحب سے میں نے کہا کہ جب مولوی ثنا اللہ صاحب نے اپنے اخبار اہل حدیث میں لکھا ہے کہ فرضوں کہ بعد آج کل جو ہاتھ اُٹھا کر دعا مانگنے کا رواج ہے وہ نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگی نہ خلفاء راشدین نے اور نہ چاروں اماموں نے۔بلکہ یہ بعد میں رائج ہوتی ہے۔تو آپ لوگ حنفیوں کو تو بدعتی کہتے ہیں مگر آپ اہل حدیث ہو کر اس بدعت پر کیوں عمل کرتے ہیں۔انہوں نے کہا وہ مضمون میں نے پڑھا ہے۔واقعی فرضوں کے بعد ہاتھ اُٹھا کر دعا مانگنا بدعت ہے۔مگر اس چھوٹی سی بات پر خواہ مخواہ ہم لوگوں سے اختلاف کر کے دشمنی کیوں مول لیں۔۵۔بٹے کا نکاح نکاح شغار نہیں ۱۹۳۹ یا ۱۹۵۰ء کا واقعہ ہے کہ ایک شخص نے مجھے کہا کہ میں نے ایک مضمون میں پڑھا ہے، جس میں جماعت احمدیہ کی تربیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اُن کو روکا گیا ہے کہ وہ نکاح شغار نہ کیا کریں۔کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح شغار کوحرام قرار دیا ہے۔یہ کہہ کر اس نے مجھے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت نکاح شغار کا رواج جاہلیت کے زمانہ میں تھا۔اس کے بعد کسی فرقہ اسلامیہ نے بھی سوائے جماعت احمدیہ کے اس کو جائز نہیں رکھا۔میں نے کہا وہ مضمون میں نے پڑھا ہے۔لیکن جہاں تک مجھے معلوم ہوا ہے۔وہ یہ ہے کہ بٹے کا نکاح جو