حیاتِ بقاپوری — Page 140
حیات بقاپوری قاضی اکمل صاحب نے عرض کیا کہ تنبول کی نسبت حضور کا کیا ارشاد ہے۔فرمایا اس کا جواب بھی وہی ہے۔اپنے بھائی کی ایک طرح کی امداد ہے۔140 عرض کیا گیا: جو لوگ تنبول دیتے ہیں وہ تو اس نیت سے دیتے ہیں کہ ہمیں پانچ کے چھیلیں۔اور پھر اس روپیہ کو نخروں پر خرچ کرتے ہیں۔فرمایا ہمارا جواب تو اصل رسم کی نسبت ہے کہ نفس رسم پر کوئی اعتراض نہیں۔باقی رہی نیت سو آپ ہر ایک کی نیت سے کیونکر آگاہ ہو سکتے ہیں۔یہ تو کمینہ لوگوں کی باتیں ہیں کہ زیادہ لینے کے ارادے سے دیں یا چھوٹی چھوٹی باتوں کا حساب کریں۔ایسے شریف آدمی بھی ہیں جو محض به تحمیل حکم تعاون و تعلقات محبت تنبول دیتے ہیں۔اور بعض تو واپس لینا بھی نہیں چاہتے۔بلکہ کسی غریب کی امداد کرتے ہیں۔غرض سب کا جواب ہے: انما الاعمال با النيات۔۳۔نہ بند کا مخنہ سے نیچے ہونا ایک دفعہ ضلع گورداسپور کا تبلیغی دورہ کرتے ہوئے میں وڈالہ بانگر پہنچا۔صبح کی نماز پڑھا کر بیٹھا ہوا تھا کہ مولوی عبدالحق صاحب جو مخلص احمدی تھے آکر نماز پڑھنے لگے۔ایک اہلِ حدیث مولوی صاحب نے کہا، کہ مولوی صاحب میں نے کئی دفعہ آپ کو بتلایا ہے کہ نماز میں ٹخنے نگے رکھا کرو۔مولوی صاحب نے جلدی سے پاجامہ اوپر کر لیا اور نماز میں مشغول رہے۔جب نماز پڑھ چکے تو میں نے مولوی عبدالحق صاحب سے کہا کہ ان مولوی صاحب نے آپکو کیا کہا ہے۔اس پر وہی اہلِ حدیث مولوی صاحب کہنے لگے کہ ان کا پاجامہ ہمیشہ مخنوں سے نیچے ہی ہوتا ہے۔میں نے کہا، پھر کیا ہوا؟ کہنے لگے کہ آپ کو مولوی ہو کر یہ بھی معلوم نہیں کہ صحیح بخاری میں اس کی ممانعت آئی ہے۔میں نے کہا اگر بخاری میں ہے تو لا کر مجھے دکھاؤ۔مولوی عبدالحق صاحب نے مجھ سے کہا کہ بخاری شریف میں یہ حدیث ہے، بخاری لانے کی ضرورت نہیں۔آخر جب میں نے کتاب لانے پر زور دیا تو جا کر لے آئے۔اور اس میں سے یہ حدیث نکلی کہ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنا تہ بند نیچے لٹکائے تو وہ دوزخ میں جائیگا۔اہل حدیث مولوی صاحب سے میں نے کہا یہاں تو تکبر کی شرط ہے۔جس طرح قرآن شریف میں ریا کارنمازیوں کے لئے ویل ہے۔تو جس طرح وہاں ریا کی نماز نہیں پڑھنی چاہئیے اسی طرح تکبر کی نیت سے تہ بند نہیں انکا نا چاہیئے۔اس پر مولوی عبدالحق صاحب سمجھے گئے اور کہا کہ میری نیت تکبر کی تو نہیں۔میں نے ان مولوی صاحب سے کہا کہ ساری حدیث سنادیں۔چنانچہ انہوں