حیاتِ بقاپوری — Page 14
حیات بقاپوری 14 واقعہ بیعت قادیان پہنچنے کے بعد چوتھا روز تھا کہ میں نے بیعت کا ارادہ کر لیا۔اُس دن حضرت مسیح موعود کی طبیعت نا ساز تھی اور آپ نے طبی ضروریات کے ماتحت مسہل لیا ہوا تھا اور آپ کی عیادت کے لیے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اور مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوئی رضی اللہ عنہ، خواجہ کمال الدین صاحب، شیخ رحمت اللہ صاحب وغیرہ اصحاب بیت الفکر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حضور کو میرے متعلق اطلاع کی گئی کہ وہ بھی حاضر ہونا چاہتے ہیں۔حضور نے از راہ شفقت و مرحمت مجھے بھی اندر آنے کی اجازت فرمائی۔چونکہ اس وقت وہاں پر کوئی خالی کرسی یا موڑھا وغیرہ نہ تھا اس لیے میں نیچے بیٹھنے کے لیے جھکا ہی تھا کہ حضور نے مجھے فرمایا نہیں نہیں آپ میرے پاس چار پائی پر بیٹھ جائیں۔میں جھجکتے ہوئے پاؤں نیچے لٹکا کر چار پائی پر بیٹھ گیا۔حضور نے کمال مہربانی سے ارشاد فرمایا:۔مولوی صاحب میری طرح چار پائی پر پاؤں رکھ کر بیٹھ جائیں۔میں حضور کے سامنے بیٹھ گیا اور عرض کی حضور اب مجھے کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہیں رہا اور حضور نے تین چار روز یہاں قیام کرنے کا ارشاد فرمایا تھا۔آج چوتھا دن ہے حضور میری بیعت لے لیں۔حضور نے ہاتھ بڑھایا اور میری بیعت لے لی۔اس نظارہ سے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ جو وہاں تشریف فرما تھے بہت ہی متاثر ہوئے اور فرمانے لگے:۔مولوی صاحب اس طرح کی بیعت کرنا آپ کو مبارک ہو۔“ بیعت کے بعد گاؤں میں واپسی جب میں بیعت کر کے اپنے مہیال قصبہ مرالی والا میں واپس پہنچا تو میں نے اپنی بیعت کا کسی سے ذکر نہ کیا اور ظہر کی نماز پڑھائی اس کے بعد عصر کی نماز بھی پڑھائی اور پھر مغرب کی نماز پڑھانے کے بعد میں نے حاضرین سے کہا کہ آپ لوگ سنتیں پڑھ کر بیٹھے رہیں۔جب لوگ فارغ ہوئے تو میں نے کہا کہ میں جیسے پہلے نماز پڑھایا کرتا تھا اُسی طرح پڑھائی ہے یا کوئی کمی بیشی کی ہے؟ سب نے کہا کہ نہیں اُسی طرح پڑھائی ہے جس طرح پہلے پڑھایا کرتے تھے۔اس پر میں نے کہا کہ میں قادیان گیا ہوا تھا وہاں پر میں نے دیکھا ہے کہ احمدیوں کا یہی قبلہ ہے۔یہی