حیاتِ بقاپوری — Page 126
حیات بقاپوری 126 نبی کریم صلعم کو دوسرے نبیوں پر ترجیح دی گئی، کہ جب تک کوئی شخص آپ کی نبوت کا قائل نہ ہو جائے ، اس پر دروازہ نبوت نہیں کھلتا۔اس صورت میں انبیین کا الف لام استغراقی ہو گا۔اور جس قدر انبیاء علیہم السلام گذرے ہیں سب محمد رسول اللہ صلعم کی نبوت کا اقرار کرتے گئے ہیں۔اور اُن کے حصول نبوت میں اتباع شرط نہ تھی۔کیونکہ مطاع مبعوث نہیں ہوا۔چنانچہ قرآن کریم کی آیت واذ اخذ الله میثاق النبين لما اتيتكم من كتب و حكمة ثم جاء کم رسول مصدق لما معكم لتؤمنن به و لتنصر نه (۸۲:۳) اور حدیث كنت خاتم النبین و أدم لمنجدل بين الماء و الطين اس پر شاہد ہے۔اگر الف لام النبین کا بعضیہ ہو جیسا کہ یقتلون النبين (:۶۲) میں ہے، تو اُس وقت مراد انبیاء متشرعین ہوں گے۔اور اس وقت خاتم النبین بمعنی اخیر ہوگا۔کیونکہ یہ لفظ دونوں معنوں میں آتا ہے۔تو جس طرح یقتلون النبیین کے معنے کرو گے (یعنی بعض نبیوں کو قتل کرتے تھے )، اسی طرح خاتم النبیین کے معنے ہوں گے (یعنی صاحب شریعت نبیوں کے خاتم )۔اگر ہم بطور مقتول کے غیر احمدیوں کی طرح یہ بھی مان لیں کہ خاتم بمعنی ایسے اخیر کے ہے جس کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں آئے گا، تو بھی مسیح موعود کی نبوت میں کوئی حرج واقع نہیں ہوتا۔کیونکہ مسیح موعود کی نبوت نبی کریم صلعم سے علیحدہ ہو کر نہیں۔بلکہ آپ میں محو ہونے کی وجہ سے گویا آپ ہی نبی ہیں۔جیسا کہ قرآن کریم نے سورۃ جمعہ میں آيت وأخرين منهم لما يلحقوا بهم كا عطف على الاميين يعنی اُمیوں پر ڈال کر سمجھا دیا کہ نبی کریم صلعم کی ہی دو بعثتیں ہیں۔اور دونوں نبوت کے رنگ میں ہیں۔کیونکہ یہ عبارت معطوف ، معطوف الیہ واقع ہوئی ہے۔چونکہ اسلام تاریخ کا قائل نہیں، لہذا محمد رسول اللہ صلم کی دوسری بعثت بروزی رنگ میں ہوگی اور بروز مثیل سے اخص ہوتا ہے۔بروز محمدی کے لئے نبوت شرط ہے۔مثیل کے لئے نہیں۔اور تمام اُمت میں گو مثیل بہت سے ہوں مگر بروز ایک ہی ہونا تھا۔جس کو مسیح موعود فرمایا۔تو جس طرح مسیح موعود کا وجود باجود عدم ذکر آیت بالا میں حقیقی طور پر موجود فی نفس الامر ہے۔ایسا ہی آپ کی نبوت بھی نفسیہ ہے گونبی کریم صلعم کی وساطت سے ہی حاصل ہوئی ہو۔دوم جب بار بار حدیثوں میں مسیح موعود کو نبی اللہ فرمایا ہے۔چنانچہ صحیح مسلم کی ایک حدیث میں بار بار چار دفعہ نبی اللہ پکارا گیا ہے ) تو باعث شہرت اور ایک ہی فرد ہونے کے اور وہ بھی نبی کریم صلعم کی معلمی میں ہو کر نبوت پا نا ختم نبوت کا ناقض نہیں ہے۔بلکہ مثبت ہے۔اس لئے خادم کی چیز مخدوم ہی کی ہوتی ہے۔است و مالک یا بیک فرموده نبی کریم صلعم ہے۔مگر آپ کے معنے تو قرآن کریم کے سیاق و سباق کے بھی مخالف ہیں۔مثلاً شروع آیت یوں ہے ما كان