حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 115 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 115

حیات بقا پوری 115 ہیں کہ تمام قومی و دینی اشغال بظا ہر قائم رہتے ہیں لیکن انکی روح مفقود ہو جاتی ہے۔یہ نہیں ہے کہ ہماری مسجد میں اجڑ گئی ہیں۔کتنے جھاڑ اور فانوس ہیں جن سے مسجد میں بقعہ نور بنائی جاتی ہیں۔مگر رونا یہ ہے کہ دل اجڑ گئے ہیں۔اور یہ وہ ہستی ہے کہ جب ویران ہو جائے تو پھر ( الهلال جلد نمبر ۲ صد ۷۰ ) آبادی کہاں؟“ ہاں ان مفاسد کی اصلاح کے لئے جس مقدس وجود کی بعثت مقدر تھی اور اس کام کیلئے جو وقت موعود تھا اس کا اعتراف بھی مولانا مرحوم کن کھلے الفاظ میں فرماتے ہوئے لکھتے ہیں: ہاں ایک وقت آنے والا تھا۔اور وہ آگیا۔ایک یوم الفصل تھا جس کا آفتاب طلوع ہو گیا۔پرانی پیشگوئیوں میں کہا گیا تھا که آفتاب مغرب سے نکلے گا۔اور توبہ کا دروازہ بند ہو جائیگا۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ آفتاب مغرب سے نکل چکا ہے اور توبہ کا دروازہ ( کہ فقط مایه امیدواری ما بد بختان عالم بود) روز بروز ہم پر بند ہو رہا ہے۔پس وقت آگیا ہے۔جس کو اٹھنا ہے اٹھے۔جس کو چلتا ہے چلے۔جس کو اپنے روٹھے ہوئے خدا سے صلح کر لینی ہے کرلے۔کیونکہ ساعت آخرمی، نتائج سامنے، مہلت قلیل اور فرمت قلیل ہے۔“ الهلال جلد ۲ ص ۲۵۶) (مرتب اول) -۷۵ حضرت مسیح موعود کا عقیدہ دربارہ حضرت مسیح ناصری پیر عبد الکریم صاحب کے اس بیٹے کا واقعہ ہے۔( یہ مولوی صاحب آج کل اپنے باپ کی جگہ پیر بھی بنے ہوئے ہیں۔اور ہمارے محمد صادق صاحب کے چھوٹے بھائی اُن کے مرید ہیں ) کہ میں راولپنڈی میں ایک انسپکٹر صاحب پولیس کو قرآن شریف پڑھانے جایا کرتا تھا۔ایک دن یہ مولوی صاحب اُن انسپکٹر صاحب کے پاس آئے اور بہت سی باتیں خلاف واقعہ ہمارے متعلق اُن کے پاس بیان کیں۔جس سے انہیں ہم سے بدظنی پیدا ہونے لگی۔اُن سے گفتگو کر ہی رہے تھے کہ میں بھی وہاں پڑھانے کے لئے آگیا۔انسپکٹر صاحب نے مجھے کہا یہ مولوی صاحب کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے حضرت عیسی علیہ السلام کی بہت بہتک کی ہے اور لکھا ہے کہ اس کی دادیاں نانیاں زانیہ تھیں۔اور مرزا صاحب کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے قلم سے میرے کرتے پر چھینٹے پڑے ہیں۔اس کا کیا جواب ہے؟ میں نے کہا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہتک کے متعلق تو یہ عرض ہے کہ مرزا صاحب کا دعوی ہے کہ میں مثیل عیسی ہوں۔پس آپ انسپکٹر ہیں، سوچیں کہ جو شخص یہ کہے کہ میں مولوی صاحب کی طرح ہوں۔تو وہ اُن کی خوبیاں بیان کرے گا، نہ کہ ہدیاں۔اور یہ جو مولوی صاحب نے کہا ہے کہ عیسی علیہ السلام کی نانیاں وادیاں زانیہ تھیں۔یہ اپنا