حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 96 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 96

حیات بقاپوری 96 رکھا۔لیکن ہمارے غیر احمدی مسلمان بھائی کہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام ( جنہیں عیسائی خدا کا بیٹا کہتے ہیں ) کو جب دشمنوں نے قتل کرنے کے ارادے سے مکان میں بند کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو چھت پھاڑ کر چوتھے آسمان پر جسم خاکی کے ساتھ اُٹھا لیا اور انہیں سو سال سے اب تک بغیر کھانے پینے کے وہاں پر رکھا ہوا ہے۔عیسائی اسی بات کو حضرت عیسی علیہ السلام کی الوہیت کی دلیل کے طور پر پیش کر کے ہزاروں مسلمانوں کو مرتد بنا چکے ہیں۔کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام اگر صرف نبی ہوتے تو دوسرے نبیوں کی طرح ان سے سلوک ہوتا۔مگر بر خلاف سب رسولوں کے وہ اب تک آسمان پر زندہ ہیں۔بغیر کھانے پینے کے دو ہزار سال سے حی و قیوم ہیں۔اب تم خود بتاؤ کہ یہ عقیدہ درست ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں مسلمانوں کے فرزند اسلام چھوڑ کر دشمن رسول بن گئے یا ہمارے عقائد جن سے عیسائی مذہب کی عمارت دھڑام سے گر کر پیوند زمین ہو جاتی ہے؟ اس ان پڑھ نے بھی میری باتوں کی تصدیق کی اور احمدیت کو قبول کر لیا۔۵۷ شریعت، طریقت، حقیقت ، معرفت سندھ راؤ تیانی کے ایک جاہل فقیر نے چند اصطلاحی الفاظ تصوف کے یاد کر لیے اور جو مولوی اس کے پاس آتا اس سے بیج بھٹی کر کے جہلاء میں اپنا رسوخ پیدا کر لیا تھا۔جب میں دورہ کرتے کرتے وہاں پہنچا تو اس نے مجھ سے حقیقت، طریقت کے متعلق چند سوال کئے۔میں نے کہا میں ظہر کی نماز پڑھ لوں اور آپ بھی پڑھ لیں پھر آپ کے سوالوں کا جواب دوں گا۔جب میں نماز سے فارغ ہو کر اس کے پاس آیا تو پوچھا۔سائیں جی آپ نے بھی نماز پڑھ لی ہے؟ کہنے لگا آپ نے شریعت کی نماز پڑھی ہے اور ہم طریقت اور حقیقت کی نماز پڑھتے ہیں اور پڑھی ہے۔میں نے کہا، میں نے جو شریعت کی نماز پڑھی ہے اس کی چار رکعت سنت چار کعت فرض دو رکعت سنت ہے اور پھر اس ادائیگی کی کیفیت بیان کرنے کے بعد پوچھا آپ نے جو حقیقت اور طریقت کی نماز پڑھی ہے اس کی کیفیت بیان کریں۔میری اس بات کا تمام حاضرین اور علی الخصوص اس کے مریدوں پر بہت اثر ہوا اور اس سے کیفیت پوچھنے لگے۔جب وہ ایک گھنٹہ گذر جانے کے باوجود کچھ نہ بتلا سکا تو اس کے مریدوں نے مجھے کہا کہ آپ ہمیں بتلائیں کہ شریعت، طریقت ، حقیقت اور معرفت کیا چیز ہے۔میں نے محبت بھرے دل سے کہا شریعت احکام خداوندی کا نام ہے۔طریقت ان احکام پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کے مطابق عمل کرنے کا۔حقیقت اس حالت کو کہتے ہیں جو عامل بالشریعت اپنے اندر پیدا کرتا ہے۔اور معرفت اس قلبی کیفیت کا نام ہے جس سے مکلف کا دل