حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 84 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 84

حیات بقاپوری 84 کہ جس ترتیب سے آپ نماز پڑھ رہے تھے۔قرآن کریم سے دکھلائیں۔کہنے لگے قرآن پاک میں ہے یا المها المد قر ثم فاخر - درنگ نگیر (۲۷۴-۳-۲)۔میں نے کہا کہ یہ بتلائیں کہ پہلے کھڑے ہو جاؤ، پھر کانوں تک ہاتھ لے جاؤ اور پھر یہ آیت پڑھو۔کہاہاں تھم کے الفاظ سے کھڑے ہونے کا حکم ہے۔فنڈ زیعنی ڈرا۔یہاں سے کانوں پر ہاتھ رکھنے کا حکم نکلتا ہے کیونکہ انسان ڈرتے وقت کانوں پر ہاتھ رکھتا ہے۔پھر آیا ہے ورنک نگیز۔کہ اس کے بعد تکبیر کہو۔یعنی ابن الله هو العلم الکبیر کہو۔یہ کہہ کر مولوی صاحب خاموش ہو گئے۔میں نے کہا۔مولوی صاحب آگے پڑھیں۔وھیا بگ فطھر۔یعنی اپنے کپڑوں کو صاف کرو۔مولوی صاحب! کیا تکبیر کہہ کر پھر کپڑے دھونا شروع کر دیں؟ اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات میں نماز پڑھنے کا کوئی حکم نہیں۔اس پر حاضرین نس پڑے اور مولوی صاحب شرمندہ ہو گئے اور غصہ سے کہنے لگے مومن بن کر آؤ۔میں نے کہا مولوی صاحب یہ تو وہی بات ہوئی جیسے کوئی ڈاکٹر مریض سے کہے تم تندرست ہو کر میرے پاس آؤ تو میں دوائی دوں گا۔پھر کہنے لگے مجھ سے تم قرآنی ثبوت نماز کا طلب کرتے ہو۔تم اپنی نماز کا قرآن سے ثبوت دو کہ کہاں لکھا ہے کہ رکوع میں شیخان کریتی العظیم اور سجدہ میں سُبحان ربی الاعلی ہو۔میں نے کہا ہمارا یہ دعوی ہے کہ ہم اس طریق پر نماز پڑھتے ہیں جو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھ کر اپنی سنت سے سمجھائی اور بذریعہ تواتر ہم تک پہنچی۔کیونکہ آپ کے ذمہ قرآن کریم پڑھکر سنانا اور اس کے احکام پرعمل کر کے دیکھا نا دونوں باتیں ضروری تھیں ورنہ امت کیسے بجھتی کہ فلاں حکم پر عمل کیسے کیا جا سکتا ہے جسے سنت کہتے ہیں۔جیسے قرآن کریم یقینی ہے اسی طرح سنت بھی یقینی ہے۔حدیث شریف درجہ سوم پر ہے اور وہ ظنی ہے جس کی صحت کا ثبوت قرآن کریم ، سنت اور روایت کی تنقید سے حاصل ہوتا ہے۔پس ہم جو نماز پڑھتے ہیں۔آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ سے لے کر آج تک علماء اور عوام سے اس کا ثبوت دے سکتے ہیں۔آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین بھی تو نمازیں پڑھتے تھے اور اقیمو الصلوۃ پر عمل کرتے تھے۔اور اسی طرح واتوا الزکوۃ پر۔اور نماز کی طرح زکوۃ کے نصاب کی تفصیل بھی شدت اور حدیث سے ثابت ہے اور قرآن پاک کی آیت فتح پانسم ربک العظیم (۵۳:۲۹) سے سیمان ربی العظیم اور سے اہم تہ تک الا علی (۲:۸۷) سے سبحان ربی الاعلیٰ کا صاف ثبوت ملتا ہے۔لیکن آپ جس طریق پر نمازیں پڑھتے ہیں اس کے متعلق آپ نہیں بتلا سکے کہ آیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو ہمارے لیے اسوہ حسنہ ہیں، اس طرح پڑھا کرتے تھے۔آپ بھی مدتوں اہلحدیث رہے اور یہی نمازیں پڑھتے تھے۔اسی طرح اور باتیں بھی ہوئیں۔پھر ہم