حیاتِ بقاپوری — Page 80
حیات بقاپوری 80 مجھے وہ جگہ دکھائی جہاں سے جن نمودار ہوتا تھا۔چنانچہ میں نے اپنا مصلی اس جگہ بچھا لیا اور مستری صاحب کو یقین دلایا کہ میں آج اُسے یہاں سے اُٹھنے ہی نہ دوں گا۔یہیں دبا دوں گا۔اب رات ہو چکی تھی اور مستری صاحب سونے کے لیے اپنے بستر پر لیٹ گئے۔میں نے کمرہ میں بعض جگہوں پر گوگل کی دھونی دلوادی اور خود مصلے پر بیٹھ کر دعا میں مصروف ہو گیا۔اور اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کی کہ وہ دین محمد صاحب کا وہم دور فرمائے۔میں دعا کر رہا تھا کہ دین محمد نے گھبرا کر کہا کہ وہ نکلا جن۔میں نے اُسی وقت اس کو تسلی دی کہ گھبراؤ نہیں میں نے جن دبا لیا ہے۔چنانچہ دیکھ لو اب پہلے سے اس کا قد چھوٹا نظر آرہا ہے۔کیوں ہے یا نہیں؟ اس پر دین محمد صاحب نے کہا کہ ہاں ہے تو چھوٹا۔میں نے کہا اب چھوٹا ہی ہوتا جائے گا اور پھر نہیں نکلے گا۔چنانچہ اگلی رات بھی یہی عمل ہوا اور جب میں دعا کر رہا تھا تو دین محمد صاحب نے اعتراف کیا کہ جن نکلا تو ہے لیکن دیا ہوا ہے اور بہت چھوٹا رہ گیا ہے۔تیسری رات جن نہ نکلا اور دین محمد صاحب کی تسلی ہو گئی اور اس کے بعد میں واپس قادیان آگیا۔اس سلسلہ میں یہ لکھنا ضروری ہے کہ جنوں کا ایسا کوئی خارجی وجود ہم تسلیم نہیں کرتے جو انسانوں پر مسلط ہو سکے۔لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ کمزور طبیعتیں اپنے بعض وساوس سے اس قدر مرعوب ہو جاتی ہیں کہ انہیں خوف اور ڈر کی وجہ سے اپنے خیالات متمثل ہو کر ہیبت ناک جنوں کی شکل میں نظر آنے لگتے ہیں۔اور یہ ڈران کے دل میں اس طرح پیوست ہو جاتا ہے کہ کسی تدبیر سے نہیں نکلتا۔جو لوگ قومی دل کے ہوتے ہیں وہ ایسے وساوس سے متاثر نہیں ہوتے بلکہ ایسے وساوس کو دبا لیتے ہیں۔لیکن کمزور طبیعت لوگوں کے علاج کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ کوئی واقف کار اور صاحب توجہ انسان ان کے ساتھ ہمدردی سے پیش آئے اور حسن تدبیر سے ان کا وہم ان کے دل سے دور کر دے۔۳۵۔سورہ تکویر کی علامات ایک غیر احمدی مولوی نے مجھ سے پوچھا کہ آپ لوگ سورۃ إذا الشمن کورت کو مرزا صاحب کے زمانہ کی علامت اور ان کی صداقت کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔اس کا کیا ثبوت ہے؟ میں نے کہا کہ یہ علامات بعض آسمانی ہیں اور بعض زمینی۔آسمانی علامات میں سے سورج اور چاند گرہن ہے جس کا ذکر سورۃ القیامتہ میں ہے کہ سورج اور چاند کو اکٹھا گرہن ہوگا۔اور زمینی جیسے اونٹوں کا بیکار ہو جانا جس کا ذکر سورہ تکویر میں ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک زمینی علامت اور ایک آسمانی علامت کا ذکر حدیث میں فرما کر یہ بتلا دیا کہ سورہ تکویر کی باقی