حیاتِ بقاپوری — Page 65
حیات بقاپوری 65 ہیں عام نہیں، اور عالمانہ اصطلاحوں کے ساتھ تقریر کرتارہا۔کچھ شعر بازی کی جیسا کہ اُسے عادت تھی۔کچھ مذاق اُڑایا اور اپنا وقت گزار دیا۔اس سے مسلمانوں میں بددلی پیدا ہو گئی کیونکہ شانتی سروپ کہتا تھا کہ مولوی صاحب شعر بازی کرتے ہیں، ٹو دی پوائنٹ جواب نہیں دیتے۔ثناء اللہ کے جواب سنکر مجھے اور میرے ساتھیوں کو دعا کی طرف توجہ پیدا ہوئی اور ہم لوگ دعا میں لگے رہے۔اس کے بعد عبدالحق کھڑا ہوا اور اس نے کہا کبھی فعل کی نسبت فاعل کے طرف ہوتی ہے، کبھی سبب کی طرف۔اور بعض تفاسیر کے حوالے پیش کئے اور ایسے مہمل جواب دئے جسے عوام نہ سمجھ سکے اور اس سے مسلمانوں میں بددلی اور مایوسی اور زیادہ بڑھ گئی۔شانتی سروپ نے کہا یہ تفسیریں تو تمہارے جیسے مولویوں نے کی ہیں۔میرے لیے سند نہیں۔معقول جواب دو۔تم بھی اور تمہارے مفسر بھی کہتے ہیں کہ خدا بیماری نہیں بڑھا تا لیکن قرآن تمہارے خلاف یہ بیان کرتا ہے کہ خدا بیماری بڑھاتا ہے۔میں تمہاری یا تمہارے مولویوں کی بات مانوں یا قرآن کی جسے تم خدا تعالیٰ کا کلام کہتے ہو۔آخر : قرعہ فال بنام من دیوانه زدند میری باری آئی تو میں دعا کر کے اٹھا۔میں نے کہا پنڈت شانتی سروپ آپ کہتے ہیں کہ میں بیمار تھا اور میں نے اسلام میں رہ کر اپنی بیماری بڑھتی دیکھی تو میں نے آریہ مذہب قبول کر لیا تو شفا پائی۔آپ بیان کریں کہ آپ کی بیماری کیا تھی جسے اسلام کے نسخہ سے فائدہ نہ ہوا اور آریہ سماج کے پاس وہ کون سا اکسیری نسخہ تھا۔جس سے آپ نے شفا پائی۔میرا یہ کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مسلمانوں کو متاثر کر دیا اور انہوں نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور مسلمان بڑے چھوٹے سب کہنے لگے کہ پنڈت صاحب بیماری بتلائیے بیماری جلد بتلائیے کہ آپ کو کون سا مرض تھا؟ بابو فقیر علی صاحب یہ نظارہ دیکھ سجدہ میں گر گئے۔شانتی سروپ اس قدر مرعوب ہوا کہ پریزیڈنٹ سے کہنے لگا مولوی صاحب کو کہو کہ اس کا جواب آپ کو نہیں دیا جائے گا۔ڈاکٹر پریزیڈنٹ جس سے میرا کسی قدر تعارف تھا اس سے میں نے کہا ڈاکٹر صاحب! سوال تو میں نے شانتی سروپ صاحب سے کیا ہے اور بجائے اس کے کہ وہ اپنی زبان سے جواب دیتے آپ نے اُن کی نمائندگی شروع کر دی ہے۔اگر کرنی تھی تو ان کے وقت میں کرتے نہ کہ میرے وقت میں۔اس پر ڈاکٹر کہنے لگا کہ آپ کا وقت اب پھر سے شروع کر دیا جائے گا۔میں نے کہا کہ شانتی سروپ نے کہا ہے کہ میں بہار تھا اور قرآن کہتا ہے فر ادھم اللہ مرضًا (۱۱:۲) اس میں ھم کا اشارہ عام لوگوں کی طرف نہیں بلکہ ان کی طرف