حیاتِ بقاپوری — Page 53
حیات بقا پوری 53 اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ تھے اس لیے مزید خلافت نہیں۔میں نے کہا قطع نظر اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے بعد خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہونے کا اپنی کتب میں لکھا ہے۔نیز آپ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو چھ سال تک خلیفہ برحق مانتے رہے ہیں۔اور کسی نبی کا خلیفہ اور اس خلیفہ، نبی کو قبول کرنا بھی اسی طرح ضروری ہے جس طرح کسی نبی کے خلیفہ کو۔آپ تو فرما ئیں کہ اس طرح خلیفہ کا انکار کر کے اور خلافت کے منکر ہو کر نہ آپ اصحاب علی میں شمار ہو سکتے ہیں اور نہ اصحاب طلحہ وزبیر و عائشہ میں۔بلکہ آپ تیسرے گروہ میں جاشامل ہوئے جو خلافت کی تعریف صرف مشورہ کرنا قرار دیتے تھے اور ان احکم اللہ کا نعرہ لگاتے تھے (خوارج) اور خلافت علی کے بھی منکر تھے اور حضرت طلحہ زبیر اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھی مخالف۔اس پر مولوی محمد علی صاحب غصہ سے برافروختہ ہو کر کہنے لگے۔آپ بحث کے لیے تیار ہو کر آئے ہیں۔میں نے اس کے لیے تیاری نہیں کی۔یا تو آپ اُٹھ کر چلے جائیں یا کوئی اور بات کریں۔میرے ساتھی شیخ غلام احمد صاحب نے کہا اٹھو چلیں۔لیکن وہاں ایک متعصب غیر مبائع مولوی فضل احمد صاحب نے شیخ صاحب سے الجھنا شروع کر دیا۔میں نے کہا شیخ صاحب یہ لوگ مولوی صاحب کو مطارع نہیں سمجھتے۔ایسی گفتگو چھوڑ دیں۔وہ خاموش ہو گئے۔میں نے کہا ہم سے غلطی ہوئی یہ باتیں آپ سے مجلس میں نہیں کرنی تھیں بلکہ علیحدگی میں کرنی مناسب تھیں۔کہنے لگے میں کرائے کا ٹو نہیں میری خلوت اور جلوت برابر ہے۔میں نے کہا آپ کا شغل کیا ہے؟ کہنے لگے میں قرآن پاک کے ترجمہ پر نظر ثانی کرتا ہوں۔میں نے کہا یہ تو سارا آپ نے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوستا دیا تھا۔اب نظر ثانی کے کیا معنے ؟ کہنے لگے کچھ نہ کچھ تصیح کی ضرورت ہے۔میں نے کہا کہ یہ کام ذاتی ہے؟ کہنے لگے انجمن کا دیا ہوا ہے۔اس پر شیخ صاحب نے مجھے واپس چلنے کو کہا اور ہم چلے آئے۔میں نے شیخ صاحب سے کہا کہ اگر وہاں کچھ اور بیٹھتے تو میں اُن کو کہنے والا تھا کہ آپ تو کہتے تھے کہ میں کرائے کا ٹو نہیں اور اب جو انجمن سے دوسور و پیہ ماہوار لیتے ہیں کیا یہ کرایہ نہیں ؟ حکمت عملی سے تبلیغ ۱۹۱۱ ء کا واقعہ ہے کہ میں اور چوہدری غلام محمد صاحب گوندل چک ۲۳ سے چک ۹۹ کو آرہے تھے کہ راستہ میں رات ہم کو چک ۱۰۳ جنوبی میں ٹھہر نا پڑا۔جب ہم مغرب کی نماز پڑھنے گئے تو نمازی واپس آرہے تھے۔جب ہم