حیاتِ بقاپوری — Page 40
حیات بقا پوری 40 قرآن شریف میں آیا ہے اتمائی منتظر عون (۱۵:۲) اور میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے مومن ہوں۔اب میں آپ لوگوں سے کہتا ہوں کہ مولوی ثنا اللہ صاحب سے پوچھیں کہ انہوں نے قرآن کریم سے میرے استدلال کا جواب کیوں نہیں دیا اور استہزاء اور تمسخر کر کے اپنا وقت ختم کر ڈالا۔مولوی صاحب اٹھ کر بتلائیں کہ وہ ان تین فریقوں میں سے کس فریق سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ کہہ کر میں بیٹھ گیا۔میری اس تقریر کا سناتنی پریزیڈنٹ پر اس قدر اثر ہوا کہ وہ ایک غلیظ گالی دے کر کہنے لگا کہ اب بھی یہ ( شاء اللہ ) باز آئے گا یا نہیں؟ اس کے بعد ثناء اللہ کی شوخی اور استہزاء ختم ہوگیا اور تقریروں میں اس کا رنگ پھیکا پڑ گیا۔مباحثہ کے خاتمہ پر اس وکیل کے بیٹے نے جو تازہ تازہ بیرسٹر ہو کر آیا تھا اور جس نے یہ مناظرہ کرایا تھا۔راجہ علی محمد صاحب سے کہا کہ کیا اچھا ہو اگر مولوی صاحب کی ایک تقریر یہاں پر ہو جائے۔راجہ صاحب نے کہا کہ ہم تو اتنی جلدی جگہ کا انتظام نہیں کر سکتے۔اُس نے کہا کہ یہی جگہ موزوں ہے مولوی ثناء اللہ صاحب نے دو بجے واپس جانا ہے چار بجے کا وقت رکھ لیں کرسیاں اور میزیں وغیرہ یہاں ہی پڑی رہیں گی۔ہم گیارہ بجے خوشی خوشی راجہ صاحب کے مکان پر آئے اور میں تقریر کی تیاری کرنے لگا۔لیکن افسوس کہ ایک بجے کے قریب بیرسٹر صاحب نے پیغام بھیجا کہ میرے اباجی ناراض ہوتے ہیں اور وہ اجازت نہیں دیتے اور کہتے ہیں بیٹا میرے مرنے کے بعد احمدی بے شک یہاں آئیں لیکن میری زندگی میں تو انہیں یہاں لا کر تقریریں نہ کراؤ۔۴۔پادری جوالا سنگھ کے ساتھ مناظرہ اس کے کچھ عرصہ بعد راجہ علی محمد صاحب کا ایک عریضہ حضرت اقدس خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی خدمت میں پہنچا کہ یہاں پر عیسائیوں اور غیر احمدیوں کی مشترکہ کا نفرنس ہے۔پہلے تین دن عیسائی ثابت کریں گے کہ میسحیت سچا مذ ہب ہے انجیل کتاب اللہ ہے اور اس کی تعلیم عالمگیر اور ہر زمانہ اور ہر قوم کے لیے ہے۔اور ان تین دنوں میں مسلمان عیسائیوں پر سوالات کریں گے۔پھر چوتھے روز سے تین دن تک مسلمان صداقت اسلام پر تقریریں کرینگے اور قرآن پاک کا منجانب اللہ ہونا اور اسلام کی تعلیم کا عالمگیر ہونا ثابت کریں گے اور عیسائی پادری اعتراضات اور سوالات کریں گے۔لیکن یہاں پر جو غیر احمدی مولوی ہیں وہ اس قابل نہیں کہ عیسائیوں کے