حیاتِ بقاپوری — Page 388
حیات بقا پوری 388 دیکھا کہ اُن کا لباس بالکل ایسا ہی ہے۔جیسے عربوں کا لباس ہوتا ہے۔اور سانولا رنگ ہے خیر میں اُن سے بڑے تپاک سے ملا ہوں اور اُن سے باتیں کرتا ہوں۔تا کہ اُن کی دلجوئی ہو جائے۔اس کے بعد میری نظر تین چار اور دوستوں پر پڑی۔اُن کا لباس بھی بالکل عربوں جیسا ہے۔میں نے کہا مولوی صاحب مجھے ان سے بھی ملا ئیں۔چنانچہ مولوی صاحب مجھے ان کے پاس لے گئے۔اور پھر بتانے لگے کہ یہ فلاں شہر کے ہیں۔تین چار ہی آدمی ہیں اس سے زیادہ نہیں۔اس کے بعد میں نے ایک اور نظارہ دیکھا۔در حقیقت اس لئے میں نے تفصیل بیان کی تھی۔کہ اس چبوترہ کے پیچھے جو جگہ ہے وہ اگلے حصہ سے نسبتا چوڑی ہے اور جہاں ہم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہیں۔وہاں سے وہ چبوترہ ہم کھا کر ایک طرف مڑتا ہے۔جس جگہ اس کا پہلا خم ہے، وہاں سے دو تین فٹ جگہ چوڑی ہوگئی ہے۔میں نے دیکھا کہ اس دو تین فٹ جگہ کے کونے میں دو ننگے آدمی جو بہت ہی موٹے تازے ہیں اور اُن کے جسم ایسے ہی ہیں جیسے پہلوانوں کے ہوتے ہیں۔بیٹھے ہوئے ہیں۔انہوں نے لنگوٹیاں کسی ہوئی ہیں۔اور باقی تمام جسم بنگا ہے۔اسی طرح انہوں نے سرمونڈا ہوا ہے۔اور تالو کی جگہ انہوں نے عجیب قسم کے کنگروں والے بال رکھے ہوئے ہیں۔جیسے قیمتی وغیرہ لوگ ہوتے ہیں۔اسی طرز کے وہ معلوم ہوتے ہیں۔میں نے دیکھا کہ وہ کنارہ کی طرف پیٹھ کر کے اور مونہہ دوسری طرف کر کے چھپے بیٹھے ہیں۔میں مولوی صاحب سے کہتا ہوں مولوی صاحب ان سے کیوں نہیں ملاتے۔مولوی صاحب کہتے ہیں کہ یہ جاپانی ہیں۔میں حیران ہوتا ہوں کہ جاپانی ہی سہی مگر یہ چھپے کیوں بیٹھے ہیں۔ان دونوں میں سے ایک لمبے قد کا آدمی ہے۔اور اس کا جسم نسبتا پتلا ہے۔یوں تو وہ بھی موٹا ہے۔مگر دوسرے کے مقابلہ میں پہلا معلوم ہوتا ہے۔اور دوسرا بہت ہی موٹا ہے۔اور اس کا جسم ایسا ہی ہے۔جیسے غلام پہلوان اور اسی طرح کے دوسرے بڑے بڑے پہلوانوں کے جسم بتائے جاتے ہیں۔غرض مولوی صاحب مجھ سے کہتے ہیں کہ یہ جاپانی ہیں اور میں اُن سے مذاقاً کہتا ہوں کہ کیا جاپانیوں سے مصافحہ کرنا منع ہے۔چنانچہ اس کے بعد میں نے اُن میں سے ایک کے سر پر اس کے بالوں والی جگہ پر ہاتھ رکھا اور اس نے بہت ہی شرماتے ہوئے اور لچاتے ہوئے جیسے کوئی بہت شرمسار ہوتا ہے۔میری طرف اپنا ہاتھ مصافحہ کے لئے بڑھایا اور میں نے اُس سے مصافحہ کیا۔پھر میں دوسرے جاپانی کو کہتا ہوں کہ تم بھی مصافحہ کر لو وہ بھی اسی طرح سر چھپائے بیٹھا ہے۔اس کا دوسرا ساتھی بھی اُسے کہتا ہے کہ کر لو۔چنانچہ اس نے اسی طرح بیٹھے بیٹھے اپنا ہا تھ ٹیڑھا کر کے آگے کیا۔میں خواب میں سمجھتا ہوں کہ شاید ان کے ہاں مصافحہ کا رواج نہیں اس