حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 387 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 387

حیات بقاپوری 387 حضرت خلیہ اسی المان ایدہ اللہ بصرہ العزیز کا ایک ہم رویا جنوری ۱۹۹۳ء کوسید نا حضرت خلیفہ اسی الثانی ایدہ الله مصر العزیز نے خطبہ جمعہ میں اپنے ایک اہم رویا کا ذکر کیا تھا۔جو افادہ احباب کے لئے درج ذیل کیا گیا ہے۔حضور نے فرمایا: میں نے رویا میں دیکھا کہ میں یکدم قادیان سے کسی سفر کے ارادہ سے چل پڑا ہوں۔چند آدمی میرے ساتھ ہیں مگر ایسے نہیں جو سیکرٹری وغیرہ کے طور پر کام کرتے ہیں۔بلکہ ایسے لوگ ساتھ ہیں جو عام طور پر جب کسی سفر پر جانا ہو تو ساتھ نہیں ہوتے۔میرا ارادہ کسی لمبے سفر کا معلوم ہوتا ہے۔مگر قادیان سے رخصت ہونا یاد نہیں۔بس ارادہ کیا اور ارادہ کرتے ہی چل پڑے کچھ اور ملک ہے اور جیسے راستے میں پڑاؤ کیا جاتا ہے۔اسی طرح ہم نے بھی وہاں پڑاؤ کیا ہے۔وہاں کسی کے مکان کے سامنے ایک چبوترہ سا بنا ہوا ہے۔وہ چبوترہ برابر ایک سانہیں چلا جاتا۔بلکہ کچھ حصہ کم چوڑا ہے۔کچھ اس سے کم چوڑا ہے۔اور کچھ زیادہ چوڑا ہے عام طور پر جیسے شہروں میں لوگ بیٹھنے کے لئے چبوترے بنالیتے ہیں اسی طرح وہ بھی ایک چبوترہ بنا ہوا ہے۔مگر اُس کا جو اگلا حصہ ہے۔وہ چوڑا کم ہے۔اور لمبا زیادہ ہے۔مگر اس کے پیچھے جو جگہ ہے وہ اگلے حصہ سے کچھ چوڑی ہے۔اس وقت مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مولوی محمد ابراہیم صاحب جو بقا پوری کہلاتے ہیں۔وہاں جماعت میں بطور مبلغ کے کام کرتے ہیں۔میں مولوی صاحب پر کسی قدر خفا ہوتا ہوں کہ آپ کی طبیعت میں عجیب لا ابالی پن ہے کہ آپ جماعت کے دوستوں کو مجھ سے ملاتے نہیں اور میرے ساتھ ساتھ لگے ہوئے ہیں۔اس طرف آپ کو ذرا بھی توجہ نہیں کہ جماعت کے دوستوں کو مجھ سے ملا ئیں اور میری اُن سے واقفیت پیدا کروا ئیں۔انہی باتوں میں نماز کا وقت آگیا اور میں وہاں نماز کے لئے دو تین آدمیوں کو کھڑا دیکھتا ہوں۔اُس وقت میں اُن سے کہتا ہوں کہ جماعت کے امیر کہاں ہیں پریذیڈنٹ کہاں ہیں اور کیوں ایسی بے تو جہی سے کام لیا گیا ہے کہ اُن کو اس بات کا موقعہ ہی نہیں دیا گیا کہ وہ یہاں آئیں اور مجھ سے ملیں۔مولوی صاحب اس کے جواب میں کہتے ہیں وہ اس وجہ سے خفا ہیں کہ میں اولیس کی اولاد میں سے ہوں اور مجھے ملاقات میں مقدم نہیں کیا گیا۔میں نے کہا وہ ٹھیک کہتے ہیں آپ کا فرض تھا کہ آپ مقامی آدمیوں کو ملاقات کا موقعہ سب سے پہلے دیتے۔آپ تو ہمیشہ ملتے ہی رہتے ہیں۔پھر میں نے انہیں کہا کہ آپ نے یہ ٹھیک نہیں کیا کہ انہیں ناراض کر دیا ہے۔آپ اُن کو بلائیں تا کہ میں اُن سے ملوں۔چنانچہ مولوی صاحب نے اُن کو بلا یا۔جب وہ آئے تو میں نے