حیاتِ بقاپوری — Page 351
حیات بقاپوری 351 فرماتے ہیں: بشارت احمد بشیر صاحب مبلغ مغربی افریقہ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ محترم والد صاحب (ماسٹر محمد پریل صاحب) کو کسی ذریعہ سے علم ہوا کہ کوئی دوست حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری کی سوانح حیات لکھ رہے ہیں۔اُن کے دل میں بھی تحریک پیدا ہوئی کہ وہ اس کارخیر میں شریک ہو کر عنداللہ ماجور ہوں۔والد صاحب محترم نے باوجود یکہ گورنمنٹ سروس میں تھے حضرت مولوی صاحب کے ساتھ تبلیغی کاموں میں کافی حد تک دلچسپی لی تھی۔کئی مرتبہ انہوں نے مکرم مولوی صاحب کی تبلیغی مساعی۔اخلاص، ایثار اور خدائی تائید کے دلچسپ واقعات سنائے ہیں۔اور چند ایک ہمارے سلسلہ کے اخبار الفضل میں بھی شائع ہو چکے ہیں۔والد صاحب باوجود یکہ عدیم الفرصت تھے اور بوڑھے بھی۔لیکن یہ کام خود شروع کرنا چاہتے تھے۔اور آپ کی مجھے ہدایات تھیں کہ میں اخبارات کے پرانے فائلوں سے انہیں یہ مواد بہم پہنچاؤں۔لیکن ربوہ آنے پر معلوم ہوا کہ کتاب کی طباعت میں صرف چند روز باقی ہیں اور میرے لیے یہ ناممکن تھا کہ میں اخبارات کے پرانے فائلوں کا مطالعہ کروں۔لہذا چند ایک فائل جو میری نظر سے گذرے ہیں ان کی روشنی میں چند سطور قارئین کرام کے لیے سپرد قلم کرتا ہوں۔حضرت مولوی صاحب کو بچپن میں میں نانا جان“ کہہ کے پکارتا تھا اور ویسے بھی مجھے ان سے طبعی انس اور محبت ہے کہ آپ نے میرے پیدا ہونے پر میرے کان میں اذان کہی اور گھٹی بھی دی۔آپ کو ۱۹۲۳ ء میں سندھ کا پہلا مبلغ مقرر کر کے بھیجا گیا۔انہوں نے ۱۹۲۸ ء تک بڑی کامیابی وکامرانی کے ساتھ تبلیغ کے مقدس فریضہ کو سرانجام دیا۔دراصل سندھ میں جو تبلیغی مشن کھولا گیا وہ حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے ایک خواب کی بناء پر تھا اور اس کام کے لیے حضور پرنور کی نظر عنایت آپ پر پڑی اور خدا کے فضل سے آپ ہی اس کام کے لیے موزوں و محمد ثابت ہوئے۔آپ جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں ۱۹۲۳ء میں تشریف لے گئے۔اس وقت جب کہ