حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 348 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 348

حیات بقاپوری 348 تمام حاضرین ان کی عام فہم تقریروں سے بہت متاثر ہوتے تھے۔بہر حال سفر سندھ کے نیک اثرات کا نقشہ آج بھی میرے سامنے ہے۔اور دل سے دعا نکلتی ہے۔کہ اللہ تعالیٰ حضرت مولوی بقا پوری صاحب کو ان کے کاموں کی نیک جزاء عطا فرمائے اور انہیں صحت والی لمبی عمر بخشے۔آمین ثم آمین۔خاکسار ابوالعطاء جالندھری فرماتے ہیں: حضرت مفتی محمد صادق صاحب بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُه وَ نُصَلِّي عَلَىٰ رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وَعَلَى عَبْدِهِ المَسِيح الموعود مجھے معلوم ہوا ہے کہ ایک دوست مولانا محمد ابراہیم صاحب بقا پوری کی زندگی کے بعض واقعات جو قبولیت دعا اور تبلیغ سلسلہ سے متعلق ہیں شائع کر رہے ہیں۔مولانا مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ان صحابہ کرام میں سے ہیں جو حضور علیہ السلام کی زندگی میں ہی عملی طور پر اپنی زندگی دین کے لیے وقف کئے ہوئے تھے اور خدمت سلسلہ میں مصروف رہتے تھے۔مولوی صاحب کو تبلیغ کا شروع سے ہی بہت شوق رہا ہے۔اس سلسلہ میں ہم نے بعض دفعہ اکھٹے بھی کام کیا ہے۔اس لیے چند واقعات ذیل میں درج کرتا ہوں۔جو درحقیقت کتاب کا ایک حصہ ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے مکرم مولوی صاحب کو جون ۱۹۱۴ء میں قادیان بلایا۔اس وقت ا۔آپ سرگودھا کے علاقہ میں تھے اور خود اپنے شوق سے بلا معاوضہ تبلیغ کے کام میں مصروف تھے۔٢۔اس کے بعد مکرم مولوی صاحب موصوف خلافت ثانیہ میں میرے ساتھ اور مکرم حافظ روشن علی صاحب مرحوم اور محترم حضرت میر محمد اسحاق صاحب رضی اللہ عنہما کے ساتھ مرکز کی طرف سے جلسوں اور مباحثوں کے لیے جاتے رہے ہیں۔چنانچہ 1919ء میں سرگودھا میں میرے ساتھ محترم حضرت میر محمد اسحاق صاحب اور مکرم مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری بھی تھے۔اس جلسہ میں جو مقامی جماعت کی طرف سے منعقد کیا گیا تھا مولوی صاحب مکرم