حیاتِ بقاپوری — Page 31
حیات بقاپوری 31 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اُن سے پوچھو۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے مطلوبہ مقام کا مطلب سمجھا دیا۔جس سے میر انشراح صدر ہو گیا۔چنانچہ اس رویاء کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے قرآن مجید کا ایسا فہم عطا فرمایا کہ مجھے کسی مقام کو حل کرنے یا معضلات کی گرہ کشائی کی کوئی دقت محسوس نہ ہوئی۔اور مجھے قرآن کریم پڑھانے کے بھی مواقع ملے اور تعلیمی مجاہدات کی بھی توفیق ملتی رہی۔چوہدری عبداللہ خان صاحب کا قرآن پڑھنا:۔1904ء میں ایک بار قادیان گیا تو اس وقت چوہدری عبداللہ خان صاحب بہلولپوری ( جد امجد چوہدری صلاح الدین صاحب بی اے واقف زندگی ناظم جائداد صدرانجمن احمد یہ ) بھی اس وقت وہاں موجود تھے انہیں الہام ہوا: انگ علی میر ابا سکیں۔اس وقت ان کی عربی تعلیم اس قدر کم تھی کہ انہوں نے اس فقرے کے معنی مجھ سے دریافت کئے میں نے اس الہام میں جو بشارت تھی اُسے بیان کیا اور اس وقت اُن کے ساتھ یہ بھی طے پایا کہ میں اُن کے گاؤں میں اُن کے ساتھ چلوں اور وہاں رہ کر اُن کو قرآن کریم کا ترجمہ پڑھاؤں۔میں نے انکو چھ ماہ تک قرآن کریم پڑھایا اور ساتھ ہی تبلیغ اسلام کی خدمت بھی سرانجام دیتا رہا۔اس عرصہ میں انہوں نے قرآن کریم ترجمہ کے ساتھ ختم کر لیا اور اتنی لیاقت پیدا کر لی کہ وہ دوسروں کو بھی ترجمہ پڑھا سکتے تھے۔ایک دن چوہدری صاحب موصوف کہنے لگے کہ میں جب لگان ادا کرنے کے لیے لائل پور جاتا ہوں تو وہاں ایک غیر احمدی مولوی صاحب سے تبادلہ خیالات کا موقعہ ملتا رہتا ہے۔وہ مجھے کہتے ہیں کہ آپ صرف ونحو نہیں جانتے اگر کوئی ایسا احمدی جو صرف و نحو سے واقف ہو آپ ساتھ لائیں تو میں اس سے احمدیت کے متعلق تبادلہ خیالات کرنا چاہتا ہوں۔اور مجھے کہا کہ جب لائل پور جاؤں گا تو آپ بھی ساتھ چلیں اور اس مولوی سے تبلیغی گفتگو کریں۔راستہ میں میں نے کہا کہ آپ مولوی صاحب کے سامنے مجھے مولوی کے لفظ سے خطاب نہ کریں اور جیسا کہ میرے زمیندارہ لباس سے ظاہر ہے مجھے زمیندار ہی رہنے دیں۔جب ہم تحصیل میں پہنچے تو چو ہدری صاحب کہنے لگے بھائی جی اندر معاملہ جمع کرانے جاتا ہوں آپ ان مولوی صاحب (غیر احمدی) کے پاس بیٹھیں۔وہ مولوی صاحب مجھے