حیاتِ بقاپوری — Page 287
حیات بقاپوری 287 -۱۴ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب اسٹنٹ سرجن نئے قواعد کی رو سے جو مولوی محمد علی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور پیش فرمائے صدر انجمن احمد یہ قادیان کے کام کی نوعیت، وسعت اور اختیارات میں توسیع کی گئی۔اور مجلس کار پرواز مصالح قبرستان صدر انجمن احمد یہ قادیان کی منجملہ دیگر شاخوں کے ایک شاخ قرار دی گئی۔جس کا انتظام صدرانجمن احمدیہ کے ماتحت قرار پایا۔ان قواعد میں ایک خاص بات جو قابل نوٹ نظر آتی ہے یہ ہے کہ قاعدہ نمبر ۳۰ کی رو سے ہر ایک معاملہ میں صدر انجمن احمد یہ اور اس کے ماتحت مجالس اور اس کی کل شاخہائے کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حکم قطعی اور ناطق قرار دیا گیا۔دوسری بات جو نوٹ کرنے کے قابل ہے وہ یہ ہے کہ مجلس معتمدین کے ممبروں میں سب سے چھوٹی عمر کے ممبر صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب ہی تھے جن کی عمر اس وقت کے اسال کی تھی۔لیکن چونکہ اُن کی نامزدگی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک سے ہوئی تھی اس لیے کسی کو اعتراض کرنے کی گنجائش بھی نہ تھی۔گو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بعض ممبران مجلس معتمدین کو یہ بات ناگوار گزری لیکن وہ اس کا اظہار نہ کر سکے۔مگر جلد ہی ایسے واقعات ظہور میں آئے جن کی رو سے اس ناپسندیدگی کا اظہار نمایاں ہوتا گیا۔۲۔اس کے بعد جوں جوں وقت گزرتا گیا مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء کا اختلاف صاحبزادہ صاحب سے بڑھتا ہی گیا۔مجھے یاد ہے ایک موقعہ پر خواجہ کمال الدین صاحب نے حضرت خلیفہ اول سے کہا تھا کہ صاحبزادہ صاحب لو احمد کی جماعتوں میں نہ بھجوایا جائے کیونکہ لوگ صاحبزادہ صاحب کے ساتھ پیروں والا سلوک کرتے ہیں۔جب مئی ۱۹۰۸ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات ہوئی تو اس وقت انجمن نے باہر جماعتوں کو جو خطوط لکھے اُن کا مضمون حسب ذیل تھا:۔اطلاع از جانب صدر انجمن احمد بید: یہ خط بطور اطلاع کل سلسلہ کے ممبران کو لکھا جاتا ہے کہ وہ اس خط کے پڑھنے کے بعد فی الفور حضرت حکیم