حیاتِ بقاپوری — Page 228
حیات بقاپوری 228 11- آداب اوراق قرآن شریف: ایک شخص نے عرض کی کہ قرآن شریف کے بوسیدہ اوراق کو اگر بے ادبی سے بچانے کے واسطے جلا دیا جائے تو کیا جائز ہے؟ فرمایا جائز ہے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی بعض اوراق جلائے تھے۔نیت پر موقوف ہے۔۱۲۔عقیقہ کے واسطے کتنے بکرے مطلوب ہیں:۔ایک صاحب کا حضرت اقدس کی خدمت میں سوال پیش ہوا۔کہ اگر کسی کے گھر میں لڑکا پیدا ہو تو کیا یہ جائز ہے کہ اس کے عقیقہ پر صرف ایک ہی بکرا ذبح کرے؟ حضرت اقدس نے جواب میں فرمایا کہ عقیقہ میں لڑکے کے واسطے دو بکرے ہی ہیں۔لیکن یہ اس کے واسطے ہے جو صاحب مقدرت ہے۔اگر کوئی شخص دو بکروں کی طاقت نہیں رکھتا اور ایک خرید سکتا ہے تو اس کے لئے جائز ہے کہ ایک ہی ذبح کرے۔اور اگر ایسا ہی غریب ہو کہ وہ ایک بھی قربانی نہیں کر سکتا تو اس پر فرض نہیں کہ خواہ مخواہ قربانی کرے۔مسکین کو معاف ہے۔نوٹ:۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں اور خلافت اُولیٰ میں اور ابتداء خلافت ثانیہ میں اسی پر عمل ہوتا رہا۔یہاں تک کر ۱۹۲۱ء میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے میرے گھر دو تو ام لڑکے پیدا ہوئے۔یعنی محمد اسمعیل اور محمد اسحاق۔تو میں نے مفتی سلسلہ حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب اور حضرت حافظ روشن علی صاحب مرحومین مغفورین کو کہا کہ چار بکروں کی مجھ میں طاقت نہیں۔ہاں دو دے سکتا ہوں۔اور ساتھ ہی میں نے عرض کی کہ کیوں نہ ہو کہ میں ایک گائے دونوں کی طرف سے ذبح کر دوں اور اس میں ہم دونوں میاں بیوں بھی شامل ہو جائیں گے۔تو ہر دو صاحبان نے فرمایا کہ یہ مسلمانوں کے تعامل میں آج تک نہیں آیا۔میں نے کہا کہ میں باہر تبلیغ پر جارہا ہوں میرے آنے تک اس کی تحقیق مکمل کر لیں۔جاتے ہوئے میں نے اس کا ذکر حضرت مصلح موعود سے بھی کیا۔تو آپ نے بھی یہی فرمایا کہ عقیقہ کے لئے گائے ذبح کرنا کہیں سے ثابت نہیں۔غرض جب میں واپس آیا تو ہر دو مفتیان سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے یہی کہا کہ عقیقہ کے لئے گائے ذبح کرنا کہیں سے ثابت نہیں۔لہذا آپ دونوں بیٹوں کی طرف سے دو بکرے عقیقہ کردیں۔