حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 227 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 227

حیات بقا پوری 227 ہیں۔جیسا کہ دیہات میں عموماً دستور ہوتا ہے۔لیکن بعض لڑکے یا نوکر مالک سے چوری ایسی چیزیں لاتے ہیں۔کیا اس صورت میں اُن کو سودا دینا جائز ہے۔یا کہ نہیں ؟ فرمایا۔جب کسی شے کے متعلق یقین ہو کہ یہ مال مسروقہ ہے تو پھر اُس کا لینا جائز نہیں۔لیکن خواہ مخواہ اپنے آپ کو باطنی میں ڈالنا امر فاسد ہے۔ایسی باتوں میں تفتیش کرنا اور خواہ مخواہ لوگوں کو چور ثابت کرنا دوکاندار کا کام نہیں۔اگر دو کا نداریمی تحقیقاتوں میں لگے گا تو پھر دوکانداری کس وقت کرے گا۔ہر ایک کے واسطے تفتیش کرنا منع ہے۔قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ گائے ذبح کرو بہتر تھا کہ ایک گائے پکڑ کر ذبح کر دیتے۔حکم کی تعمیل ہو جاتی۔انہوں نے خواہ مخواہ اور باتیں پو چھنی شروع کر دیں۔کہ وہ کیسی گائے ہے۔اس کا رنگ کیسا ہے۔اور اس طرح کے سوال کر کے اپنے آپ کو اور وقت میں ڈال لیا۔بہت مسائل پوچھتے رہنا اور باریکیاں نکالتے رہنا اچھا نہیں ہوتا۔۱۰۔گذشتہ روحوں کو ثواب:۔جب میں سندھ میں امیر التبلیغ تھا تو جب کبھی سندھی مجھ سے اپنے مولویوں کے اکسانے پر سوال کرتا کہ حضرت پیراں پیر کی روح کو ثواب پہنچانے کے لئے گیارہویں شریف دینا جائز ہے کہ نہیں؟ تو میں یہی جواب دیتا کہ جائز ہے مگر دن مقرر نہ کرے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے میں نے یہی سنا ہوا تھا ، چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فتویٰ مندرجہ ذیل ہے۔اگست ۱۹۰۷ ء ایک شخص کی طرف سے سوال پیش ہوا کہ اگر کوئی شخص حضرت سید عبدالقادر رحمتہ اللہ علیہ کی روح کو ثواب پہنچانے کی خاطر کھانا پکا کر کھلا دے تو کیا یہ جائز ہے؟ حضرت نے فرمایا کہ طعام کا ثواب مردوں کو پہنچتا ہے۔گذشتہ بزرگوں کو ثواب پہنچانے کی خاطر اگر طعام پکا کر کھلایا جائے تو یہ جائز ہے۔لیکن ہر ایک امرنیت پر موقوف ہے۔اگر کوئی اس طرح کھانے کے واسطے کوئی خاص تاریخ مقرر کرلے اور ایسا کھانا کھلانے کو اپنے لئے قاضی الحاجات خیال کرے تو یہ ایک بدعت ہے اور ایسے کھانے کو لینا دینا حرام ہے اور شرک میں داخل ہے۔تاریخ کی تعین میں بھی نیت کا دیکھنا ضروری ہے۔اگر کوئی شخص ملازم ہے اور اُسے مثلا جمعہ کے دن ہی رخصت مل سکتی ہے۔تو حرج نہیں کہ وہ اپنے ایسے کاموں کے واسطے جمعہ کا دن مقرر کرے۔غرض جب تک کوئی ایسا فعل نہ ہو جس میں شرک پایا جائے۔صرف کسی کو ثواب پہنچانے کی خاطر طعام کھلانا جائز ہے۔بدر ۸ اگست ۱۹۵۷ء)