حیاتِ بقاپوری — Page 196
حیات بقاپوری 196 ۱۲۴ یکم اکتو بر ۱۹۵۵ء میں مولوی فضل الہی صاحب انوری نے مجھے نرینہ اولاد کے لئے دُعا کی درخواست کی۔جس پر میں نے متواتر چند یوم تک دعا کی۔تب مجھے بتایا گیا کہ: اس کے ہاں لڑکا ہوگا اور اس کا نام ذکر یار کھنا“ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں لڑکا عطا فرمایا۔اس کی بشارت سناتے ہوئے ۲۰/۷/۵۶ کو مولوی صاحب نے شوق سے مجھے خط لکھا: میں بڑی مسرت سے آپ کو یہ خوشخبری سناتا ہوں کہ اللہ تبارک و تعالٰی نے اپنے خاص فضل اور رحم کے ساتھ ہمیں لڑکا عطا فرمایا ہے۔اور آپ کے ارشاد کے بموجب اس کا نام آپ کے قبل از ولادت مجوزہ نام پر ذکر یار کھا گیا ہے۔دعا فرمائیں اللہ تعالیٰ اسے نیک ، زکی اور خادم دین بنائے۔خصوصاً اس لئے کہ میں نے اس کی ولادت سے قبل ہی اسے خدا تعالیٰ کے دین کی خاطر وقف کر دیا تھا۔“ ۱۲۵ ۶ نومبر ۱۹۵۵ء کو صاجزادہ ناصر احمد صاحب کی صحت کے متعلق دعا کر رہا تھا ( ان دنوں آپ بیمار تھے )۔القاء ہوا: پیچ و سالم چنانچہ چار پانچ دنوں تک تندرست ہو گئے۔فالحمد لله۔۱۲۶ ۱۳ نومبر ۱۹۵۵ء کو دیکھا کہ میں ایک گلہری کو جوتا مارنے لگا ہوں اور وہ درخت سے چمٹ کر محفوظ ہونا چاہتی ہے۔اس طرح میں اس کے شر سے محفوظ ہو گیا ہوں۔اس میں ایک چالباز آدمی کے شرسے بچنے کی خوشخبری تھی۔سو الحمد للہ ایسا ہی ہوا۔۱۲۷ ۱۶ نومبر ۱۹۵۵ء کو مد عبد اللہ صاحب کشمیری کے نکاح کی بابت استخارہ کر رہا تھا۔زبان پر جاری ہوا: ولود وروؤ ۱۲۸ - ۱۶ - نومبر ۱۹۵۵ء کو عزیز نصر اللہ خان صاحب میر پور خاص کی ترقی کی بابت دعا کر رہا تھا۔زبان پر جاری ہوا: بعد امته