حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 19 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 19

حیات بقاپوری 19 فضل سے معلوم ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال حکمت کے ماتحت عین وقت پر اس سے مجھے آگاہ فرما دیا ہے۔میں نے یقین سے اُن کو کہا کہ میرے خدا نے مجھے اس کا علاج بتلا دیا ہے۔اُمید ہے انشاء اللہ تعالیٰ اس عارضہ سے ہلاک نہ ہو گی۔تم انڈے اور بکری کا دودھ لے آؤ۔میرا تو گاؤں میں بائیکاٹ تھا میرا ماموں یعنی خسر انڈے اور بکری کا دودھ لے آیا جسے استعمال کرایا گیا اور وہ بچ گئی۔بقا پور میں ۱۹۰۵ء سے ۱۹۰۸ء تک تین سال ہر طرح کی مالی اور بدنی ابتلاؤں کے گذرے۔کئی کئی دن فاقہ کشی بھی کرنی پڑی لیکن با وجود جسمانی تکلیفوں کے روحانی مسرت زیادہ سے زیادہ حاصل ہوتی رہی اور اب بھی وہ دن یاد آتے ہیں تو اس خاص زمانہ کو یاد کر کے جذبات میں ایک تلاطم برپا ہو جاتا ہے۔ایسی حالتیں خدا کے پیاروں کو تو بہت لمبے عرصہ تک پیش آتی ہیں اور ان ابتلاؤں کے اندر ہی وہ روحانیت کے مراحل طے کر کے اللہ تعالیٰ کے قریب تر ہو جاتے ہیں لیکن اتباع انبیاء کو بھی ان سے اپنے ظرف کے مطابق کچھ نہ کچھ حصہ مل جاتا ہے۔مباہلہ : ایک مخالف مولوی حمید پور نامی گاؤں میں بقا پور سے دو میل کے فاصلے پر رہتا تھا۔اس نے مجھ سے احمدیت کی صداقت پر پہلے تو مباحثہ کیا اور پھر مباہلہ کیا اور اللہ تعالے کی حکمت کے ماتحت وہ سال کے اندر اندر راہی ملک عدم ہو گیا۔والعظمۃ للہ۔اس زمانہ میں جس جس شخص نے بھی مجھ سے معاندانہ رویہ اختیار کیا اللہ تعالیٰ نے اس کو ذلیل کیا۔آخر آہستہ آہستہ مخالفت کم ہوگئی اور ایک دو گھرانے احمدی ہو گئے۔ان تین سالوں کے اندر میری پہلی بیوی کچھ تو زہر کے اثر سے اور کچھ جسمانی تکالیف کے باعث اپنی صحت کھو بیٹھی اور جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کی خبر سنی تو اس کا اثر بھی اسکی رہی سہی صحت پر ایسا گہرا پڑا جس سے وہ جان بر نہ ہو سکی۔اس کی وفات سے پہلے مجھے ۱۷ اگست ۱۹۰۸ء کو دیا ء میں بتلایا گیا کہ تیری بیوی دس ماہ کے اندر اندر فوت ہو جائے گی۔چنانچہ اس کے مطابق وہ ۲۔دسمبر ۱۹۰۸ ء کو ساڑھے تین ماہ کے بعد وفات پاگئی۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔