حیاتِ بقاپوری — Page 182
حیات بقاپوری 182 بندوں کی عمر میں زیادتی بھی کر دیتا ہے۔حدیثوں میں بھی آتا ہے کہ صدقہ و خیرات اور نیکی اور تقویٰ سے عمر بڑھتی ہے۔۱۳۸۶ جنوری ۱۹۵۳ بود یکھا کہ میں کچھ پڑھ رہا ہوں۔آنکھ کھلی تو زبان پر جاری تھا: وَالاخِرَةُ خَيْر لكَ مِنَ الْأُولى۔6 ۸۷ دیکھا زمین پر چاند کی بڑی تیز روشنی ہے جو چودھویں رات کی روشنی سے بھی زیادہ تیز ہے۔ایک نوجوان لڑکا چاند کی طرف پرواز کر رہا ہے۔میں بھی اُس کے ہمراہ ہو گیا ہوں۔آسمان کی طرف اُڑتے اڑتے بہت اونچے چلے گئے ہیں۔کشتی کی طرح لوہے کی سواری ہے جو ہمیں اوپر لے جارہی ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ لڑکا یا کوئی اور آدمی کہتا ہے۔کہ اتنا اونچا پرواز کر چکے ہو مگر آسمان اور چاند کی بلندی کا وہی حال ہے۔میں کھڑے ہو کر باہر کی طرف او پر کو دیکھتا ہوں تو کہتا ہوں چاند اور بادل قریب آگئے ہیں۔میں نے اُس لڑکے سے وہ رسی جس کے ذریعہ ہم پرواز کر رہے ہیں اپنے ہاتھ میں لے لی اور خوب تیزی سے پرواز کرنے لگا ہوں۔اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ رسی جو میرے ہاتھ میں ہے وہ ڈور ہے اور چاند پتنگ کی طرح ہے۔اس میں مثالی رنگ میں سمجھایا گیا ہے کہ واعتصموا بحبل الله جميعاً کی پیروی میں ہی بلندی حاصل ہوسکتی ہے۔۸۸ ۱۸ مارچ ۱۹۵۳ء عزیز نور علی صاحب کے لئے نرینہ اولاد کی دعا کی۔لڑکا ہونے کی بشارت پائی جو اُ سے سُنا دی۔پھر مورخہ ۱۸۔جون ۱۹۵۴ء مندرجہ ذیل خط آیا: محترمہ ہمشیرہ صاحبہ ومولوی صاحب دام فیوضکم۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ۔آپ سنکر خوش ہوں گے کہ ۱۵،۱۴ جون ۱۹۵۴ء کی درمیانی رات کو اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے مجھے پوتا عطا فرمایا ہے آپ کو مبارک ہو۔مولود کی پیدائش ہمارے ایمان کو بھی تازہ کرتی ہے۔کہ اُس کی پیدائش سے دو تین ماہ پہلے حضرت مولوی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی جو حرف بحرف پوری ہوئی۔و السلام یوسف علی از لاہور - ۱۷-۵۴۶