حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 165 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 165

حیات بقا پوری 165 پوسٹ ماسٹر صدر کراچی کے دادا ہیں) نے حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ کی دعوت طعام کی ہے اور آپ نے مجھے فرمایا کہ آپ بھی ہمارے ساتھ کھانے کو چلیں۔چنانچہ خاکسار ہمراہ ہو لیا اور گلی کے کنوئیں سے اپنی ٹانگوں سے کچھڑ کو دھونے لگا۔حضور والا کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے ہم کہہ دیں گے کہ یہ بھی ہمارے گھر کے آدمی ہیں۔بندہ ساتھ ہو گیا اور رقت سے عرض کیا ایسا ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی مجھے بیٹوں کی طرح جانتے تھے۔الحمد للہ کہ یہ رویاء اسطرح پوری ہوئی کہے۔اپریل ۱۹۲۱ء میں حضور نے مجھے سندھ میں بھیجتے ہوئے بیعت لینے کی بھی اجازت بخشی جس کا ذکر دوسری جگہ آچکا ہے۔-۳۵ ۱۷ رمضان ۲۵ ھ مطابق ۲۲۲۱ مارچ ۱۹۲۷ء کی درمیانی شب سحری کے وقت دیکھا کہ میں اپنی والدہ مرحومہ کے ساتھ روٹی کھا رہا ہوں اور میری اہلیہ حیات بیگم بھی میرے پاس ہے۔جس سے خیال آیا کہ میری اجل قریب ہے اور گھبراہٹ پیدا ہوئی۔بعد میں ذراسی غنودگی ہوئی تو آواز آئی: بھی عمر ڈیڑھ پاؤ رہتی ہے پھر آنکھ کھل گئی، تو قلب میں ایک قسم کی بشاشت محسوس کرتا تھا۔بعد میں جب میں نے ڈیڑھ پاؤ کا حساب کرنا چاہا تو میرا ذہن ۴×۲۰ - ۸۰ کی طرف گیا۔اور دل نے کہا کہ اس میں سے پچاس برس تو گزر گئے ہیں، اور تمیں ابھی باقی ہیں۔ہاں یہ بھی آواز آئی: عمر ۶۳۰ اور اس کی تفہیم یہ ہوئی کہ ۶۳۰ سے اشارہ گزشتہ عمر کے قمری مہینوں کی طرف ہے۔واللہ اعلم۔اور یہ تفہیم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس ارشاد کے آنکھوں کے سامنے پھر جانے سے ہوئی ، جو حضور نے مجھے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ: مولوی صاحب ! آپ یوں گھبراتے ہیں جیسے آپ کی عمر اسی سال کی ہوگئی ہے۔“ -۳۶ ۱۸ رمضان المبارک ۲۵ ھ مطابق ۲۳ مارچ ۱۹۲۷ء بوقت سحری دیکھا کہ جاری نہر سے وضو کر کے حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے پیچھے نماز میں شامل ہو گیا ہوں۔جلدی کی وجہ سے میرا سانس پھول گیا ہے۔حضرت حافظ روشن علی صاحب جو جماعت میں شامل ہیں اور بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں، میں اُن کے بائیں پہلو جا کر